السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: لا يبدأ الخوارج بالقتال حتى يسألوا ما نقموا، ثم يؤمروا بالعود، ثم يؤذنوا بالحرب باب: خوارج کے خلاف اس وقت تک قتال کا آغاز نہ کیا جائے جب تک کہ ان سے ان کے اعتراضات کی وجہ نہ پوچھی جائے، پھر انہیں حق کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جائے، اور (نہ ماننے پر) پھر انہیں جنگ سے خبردار کیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، قَالَ: أُرَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، أَوْ عَمٌّ لِي، قَالَ: لَمَّا تَوَاقَفْنَا يَوْمَ الْجَمَلِ، وَقَدْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ صَفَّنَا نَادَى فِي النَّاسِ: " لَا يَرْمِيَنَّ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، وَلَا يَطْعَنُ بِرُمْحٍ، وَلَا يَضْرِبُ بِسَيْفٍ، وَلَا تَبْدَؤُا الْقَوْمَ بِالْقِتَالِ، وَكَلِّمُوهُمْ بِأَلْطَفِ الْكَلَامِ، وَأَظُنُّهُ قَالَ: فَإِنَّ هَذَا مَقَامٌ مَنْ فَلَجَ فِيهِ فَلَجَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَمْ نَزَلْ وُقُوفًا حَتَّى تَعَالَى النَّهَارُ، حَتَّى نَادَى الْقَوْمُ بِأَجْمَعِهِمْ: يَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَادَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُحَمَّدًا ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ، وَهُوَ إِمَامُنَا وَمَعَهُ اللِّوَاءُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ مَا يَقُولُونَ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا مُحَمَّدٌ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ فَرَفَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدَيْهِ فَقَالَ: اللهُمَّ كُبَّ الْيَوْمَ قَتَلَةَ عُثْمَانَ لِوُجُوهِهِمْ.یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے چچا نے بیان کیا کہ جب ہم جنگِ جمل کے لیے تیار ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی تیر سے نہ مارے اور نہ نیزے سے اور نہ تلوار سے، تم نے لڑائی میں پہل نہیں کرنی اور ان سے نرم بات کرنی ہے، اور مجھے گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا: جو آج کامیاب ہو گیا، وہ روزِ قیامت بھی کامیاب ہو گا۔ ہم اسی حالت میں رہے کہ دن ہو گیا تو ایک شخص نے بلند آواز سے پکارا: ہائے عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کو پکارا، وہ ہمارے آگے تھے اور ان کے پاس جھنڈا تھا، پوچھا: اے ابنِ حنفیہ! وہ کیا پکار رہے ہیں؟ جواب دیا: وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ کی بات کر رہے ہیں، اے امیر المؤمنین! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور فرمایا: اے اللہ! آج ان کے منہ کے بل قتلِ عثمان کو پچھاڑ دے۔