❮
❯
حدیث نمبر: 16731
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ، وَغَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَذَا مِنْ حَقِّهَا، لَا تُفَرِّقُوا بَيْنَ مَا جَمَعَ اللهُ، لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا أَعْطُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ سَقَطَ مِنْهُ قَوْلُهُ: لَا تُفَرِّقُوا بَيْنَ مَا جَمَعَ اللهُ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ: وَاحْتَجَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: أَحَدُهُمَا أَنْ قَالَ: قد قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا بِحَقِّهَا "، وَهَذَا مِنْ حَقِّهَا، وَالْآخَرُ أَنْ قَالَ: لَا تُفَرِّقُوا بَيْنَ مَا جَمَعَ اللهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي فِيمَا أَرَى وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّهُ مُجَاهِدُهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ، وَإِنَّ الزَّكَاةَ مِثْلَهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَعَلَّ مَذْهَبَهُ فِيهِ أَنَّ اللهَ يَقُولُ: {وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَذَلِكَ دَيْنُ الْقِيمَةِ} [البينة: ٥]، وَأَنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ شَهَادَةَ الْحَقِّ وَالصَّلَاةَ وَالزَّكَاةَ، وَأَنَّهُ مَتَى مَنَعَ فَرْضًا قَدْ لَزِمَهُ، لَمْ يُتْرَكْ وَمَنْعِهِ حَتَّى يُؤَدِّيَهُ أَوْ يُقْتَلَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ، يُرِيدُ أَنَّهُ انْشَرَحَ صَدْرُهُ بِالْحُجَّةِ الَّتِي أَدْلَى بِهَا، ⦗٣٠٧⦘ وَالْبُرْهَانِ الَّذِي أَقَامَهُ. وَقَالَ بَعْضُ أَئِمَّتِنَا رَحِمَهُمُ اللهُ: قَدْ وَقَعَ اخْتِصَارٌ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، أَنَّهُ أَمَرَ بِالْقِتَالِ عَلَى الشَّهَادَتَيْنِ، وَعَلَى إِقَامَةِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، فَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا قَاتَلَ مَانِعِي الزَّكَاةِ بِالنَّصِّ مَعَ مَا ذُكِرَ مِنَ الدَّلَالَةِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا سَلَّمَ ذَلِكَ لَهُ حِينَ قَامَتْ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ بِمَا رَوَى فِيهِ مِنَ النَّصِّ، وَذَكَرَ فِيهِ مِنَ الدَّلَالَةِ، لَا أَنَّهُ قَلَّدَهُ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

تقدم قبلہ
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں جو دلیل پکڑی ہے، وہ نبی ﷺ کے اس فرمان سے لی ہے: «إِلَّا بِحَقِّهَا» ”مگر اس کے حق کے ساتھ“ اور دوسری اس چیز سے بھی کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے جمع کیا ہے یہ اس میں فرق کیوں کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ نماز پر جہاد کرتے تھے اور زکوۃ بھی اسی جیسی ہے اور شاید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾ [سورة البينة: 5] سے انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ حق کی گواہی، نماز اور زکوۃ کو فرض کیا ہے، اور جو شخص اپنے اوپر لازم کسی فرض کو روک لے تو اسے اس کے روکنے پر چھوڑا نہیں جائے گا یہاں تک کہ وہ اسے ادا کرے یا قتل کر دیا جائے اور شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو اپنے انشراحِ صدر کی بات کی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو دلائل پیش کیے تھے وہ میرے دل میں گھر کر گئے۔
ہمارے بعض ائمہ رحمہم اللہ نے فرمایا: اس حدیث کی روایت میں اختصار ہوا ہے، اور نبی ﷺ سے بہت سی سندوں سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے دونوں شہادتوں، نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے پر قتال کا حکم دیا، چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوۃ روکنے والوں سے نص کی بنیاد پر مذکورہ استدلال کے ساتھ قتال کیا، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان کی اس وقت تسلیم کی جب ان پر اس نص سے جو انہوں نے روایت کی اور اس استدلال سے جو انہوں نے ذکر کیا، حجت قائم ہو گئی، نہ یہ کہ انہوں نے اس میں ان کی تقلید کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16731