السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: ما يفعل من غلبه الدم من رعاف أو جرح باب: جس پر نکسیر یا زخم کا خون غالب آ جائے وہ کیا کرے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 1673
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ ثنا أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الصُّبْحَ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِي طُعِنَ فِيهَا فَأَوْقَظَ عُمَرَ فَقِيلَ لَهُ: الصَّلَاةُ الصُّبْحُ فَقَالَ عُمَرُ: نَعَمْ وَلَا حَظَّ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى عُمَرُ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا ".حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اس واقعہ کے بعد تشریف لائے، جب رات میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خنجر مارا گیا تھا، انھوں نے صبح کی نماز پڑھائی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بیدار کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ صبح کی نماز! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! جس نے نماز کو چھوڑ دیا اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔