السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: فضل الإمام العادل باب: عادل (انصاف پرور) حکمران کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أَنْبَأَ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَرَجُلٌ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا يُنْفِقُ بِشِمَالِهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى. وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، قَالُوا فِيهِ: " لَا تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کا سایہ دیں گے، اس دن جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا: عادل امام، وہ آدمی جو اللہ کی عبادت میں چلتا ہے، وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ لگا رہے اور وہ دو آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہوں، اسی پر ملتے ہوں اور اسی پر جدا ہوتے ہوں اور وہ آدمی جس کو کوئی حسب و نسب والی خوبصورت عورت دعوتِ زنا دے اور وہ کہے: میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جو اتنا مخفی صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چلے کہ دائیں نے کیا خرچ کیا ہے اور وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔“