السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على السلطان من القيام فيما ولي بالقسط، والنصح للرعية، والرحمة بهم، والشفقة عليهم، والعفو عنهم ما لم يكن حدا باب: حکمران پر عائد ہونے والی ان ذمہ داریوں کا بیان کہ وہ اپنے زیرِ انتظام امور میں انصاف قائم کرے، رعایا کے ساتھ خیر خواہی، شفقت اور رحم دلی سے پیش آئے، اور انہیں معاف کرے جب تک کہ وہ معاملہ شرعی حد کا نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، ح وَأَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِْمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ، فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ، وَكَانَ مِنَ النَّفْرِ الَّذِينَ يُدِينُهُمُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجَالِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ، كُهُوَلًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا، قَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ: يَا ابْنَ أَخِي هَلْ لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الْأَمِيرِ فَتَسْتَأْذِنَ لِي عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: سَأَسْتَأْذِنُ لَكَ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاسْتَأْذَنَ الْحُرُّ لِعُيَيْنَةَ، فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ: هِيْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ، وَلَا تَحْكُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ، فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} [الأعراف: ١٩٩]، وَإِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ، قَالَ: ⦗٢٨٠⦘ فَوَاللهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ تَلَاهَا عَلَيْهِ، وَكَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللهِ " وَاللَّفْظُ لِلْحَاكِمِ أَبِي عَبْدِ اللهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ. وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ ". وَقَدْ رَوَيْنَا عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ مَا لَمْ يَكُنْ حَدًّا "، وَهُوَ فِي كِتَابِ الْحُدُودِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر آئے اور اپنے بھتیجے حر بن قیس بن حصن کے پاس ٹھہرے جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قریبیوں میں سے تھے اور اہل القراء سے تھے، صاحبِ مجلس میں سے تھے تو عیینہ نے اپنے بھتیجے کو کہا: اے بھتیجے! کیا اس امیر کے پاس تیری کوئی پہنچ ہے کہ میرے لیے اجازت طلب کرلے؟ انہوں نے کہا: ضرور آپ کو اجازت لے دوں گا، تو سیدنا حر رضی اللہ عنہ نے عیینہ کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اجازت لے دی، تو یہ جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے: اے عمر! نہ تو آپ ہمیں (کافی) دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان عدل سے فیصلہ کرتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے اور قریب تھا کہ اسے سزا دیتے تو سیدنا حر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! یہ جاہل ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن میں فرمایا ہے: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ [سورة الأعراف: 199] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی تو فوراً رک گئے؛ کیونکہ آپ قرآن پر بہت عمل کرنے والے تھے۔ اور کتاب الزکاۃ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ: ”صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا اور درگزر سے عزت میں اضافہ ہوتا ہے اور جو اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند درجہ عطا فرماتے ہیں۔“