السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: إثم الغادر للبر والفاجر باب: نیک ہو یا بد، کسی کے ساتھ بھی غداری کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، جَمَعَ أَهْلَ بَيْتِهِ، حِينَ انْتَزَى أَهْلُ الْمَدِينَةِ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَخَلَعُوا يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّا بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعَةِ اللهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ " الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ، وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ بَعْدَ الْإِشْرَاكِ بِاللهِ أَنْ يُبَايِعَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى بَيْعِ اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يَنْكُثُ بَيْعَتَهُ، وَلَا يَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَزِيدَ، وَلَا يَشْرُفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَيَكُونَ صَيْلَمًا بَيْنِي وَبَيْنَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَفَّانَ مُخْتَصَرًا دُونَ قِصَّةِ يَزِيدَ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ.نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹوں کے اہل کو جمع کیا۔ جب اہل مدینہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل گئے تھے اور یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا تھا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نے اس آدمی کی اللہ اور اس کے رسول پر بیعت کی تھی اور میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے: ”ہر دھوکے باز کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا، کہا جائے گا: یہ فلاں دھوکا ہے اور شرک کے بعد سب سے بڑا دھوکا آدمی کا یہ ہے کہ آدمی کسی سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کرے، پھر بیعت توڑ دے۔“ لہٰذا تم میں سے کوئی یزید کی بیعت نہ توڑے اور اس معاملے میں کوئی بھی آگے نہ بڑھے۔ جو ایسا کرے گا تو میرا اور اس کا بائیکاٹ ہے۔