السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الصبر على أذى يصيبه من جهة إمامه، وإنكار المنكر من أموره بقلبه، وترك الخروج عليه باب: امام کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنے، اس کے خلافِ شرع کاموں کو دل سے برا جاننے اور اس کے خلاف بغاوت (خروج) ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16630
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ " اللهَ بَدَأَ هَذَا الْأَمْرَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً، وَكَائِنًا خِلَافَةً وَرَحْمَةٍ، وَكَائِنًا مُلْكًا عَضُوضًا، وَكَائِنًا عُتُوَّةً وَجَبْرِيَّةً وَفَسَادًا فِي الْأُمَّةِ، يَسْتَحِلُّونَ الْفُرُوجَ وَالْخُمُورَ وَالْحَرِيرَ، وَيُنْصَرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُرْزَقُونَ أَبَدًا حَتَّى يَلْقَوُا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس معاملے کی ابتدا نبوت اور رحمت سے فرمائی، عنقریب خلافت اور رحمت ہوگی، پھر بادشاہت ظلم و زیادتی والی ہوگی، اور پھر جبر، ظلم اور فساد ہوگا، امت میں لوگ عورتوں کی شرم گاہوں کو حلال سمجھیں گے، شراب اور ریشم کو حلال سمجھیں گے، اس پر ان کی مدد بھی کی جائے گی اور انہیں رزق بھی ملے گا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے۔“