السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: إثم الغادر للبر والفاجر باب: نیک ہو یا بد، کسی کے ساتھ بھی غداری کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 16632
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْن جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، بَعَثَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، فَلَمَّا دَعَا مُعَاوِيَةُ إِلَى بَيْعَةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: " أَتَرَوْنَ هَذَا أَرَادَ؟ إِنَّ دِينِي إِذًا عِنْدِي لَرَخِيصٌ " زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: فَلَمَّا مَاتَ مُعَاوِيَةُ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى يَزِيدَ بَايَعَهُ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف ایک لاکھ درہم بھیجے، پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت کی طرف بلایا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ انہوں نے یہی ارادہ کیا تھا؟ تب تو میرا دین میرے نزدیک بہت سستا ہوگا۔“ دوسرے راوی نے اس میں یہ اضافہ کیا: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور لوگ یزید پر جمع ہو گئے تو انہوں نے اس کی بیعت کر لی۔