السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الترغيب في لزوم الجماعة والتشديد على من نزع يده من الطاعة باب: جماعت (مسلمانوں کی اجتماعی ہیئت) کو لازم پکڑنے کی ترغیب اور اس شخص پر سخت وعید کا بیان جو اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لے۔
حدیث نمبر: 16612
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَسَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: هَاتُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَجِئْكَ لِأَجْلِسَ، إِنَّمَا جِئْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ سَالِمًا فِي إِسْنَادِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے تو انہوں نے دیکھ کر فرمایا: ابو عبدالرحمن کے لیے تکیہ لاؤ، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بیٹھنے نہیں آیا، میں ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اطاعتِ امیر سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو یومِ قیامت وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہوگی، اور جو بغیر بیعت کے فوت ہو گیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔“