السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الترغيب في لزوم الجماعة والتشديد على من نزع يده من الطاعة باب: جماعت (مسلمانوں کی اجتماعی ہیئت) کو لازم پکڑنے کی ترغیب اور اس شخص پر سخت وعید کا بیان جو اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لے۔
حدیث نمبر: 16611
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُّ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبِيَّةِ، أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، لَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جو شخص اطاعت سے نکل جائے اور جماعت کو چھوڑ دے اور اسی حالت پر فوت ہو جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا، اور جو «عِمِّيَّة» کے جھنڈے تلے لڑے، عصبیت کی خاطر غصے میں آئے، یا عصبیت کی طرف بلائے، یا عصبیت کی مدد کرے اور مارا جائے تو اس کا مارا جانا جاہلیت کا مارا جانا ہے، اور جو میری امت کے خلاف نکلے اور اس کے ہر نیک و بد کو قتل کرے، اس کے مومن (کو مارنے) سے بھی نہ بچے اور اس کے عہد والے کا عہد پورا نہ کرے وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں۔“