السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الترغيب في لزوم الجماعة والتشديد على من نزع يده من الطاعة باب: جماعت (مسلمانوں کی اجتماعی ہیئت) کو لازم پکڑنے کی ترغیب اور اس شخص پر سخت وعید کا بیان جو اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْيَشْكُرِيُّ، قَالُوا: ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللهُ بِهَذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ "، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: " قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ "، قُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: " نَعَمْ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهِا قَذَفُوهُ فِيهَا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: " هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا "، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: " تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ "، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: " فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ كَذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عَمَّارٍ ⦗٢٧٠⦘ فِي حَدِيثِهِ: صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: " هُمْ مِنْ كَذَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ". لَفْظُ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ نبی ﷺ سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا اس ڈر سے کہ کوئی برائی مجھ میں نہ آجائے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور برائی میں تھے، اللہ یہ خیر لے آیا، کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے پھر پوچھا کہ کیا پھر شر کے بعد خیر ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن اس میں «دُخَنٌ» ”دخن“ ہوگا۔“ میں نے پوچھا: «دُخَنٌ» کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ میری ہدایت کے علاوہ میں ہدایت تلاش کریں گے، لوگ اس کا اعتراف اور انکار کریں گے۔“ میں نے کہا: کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں ایسے لوگ جو جہنم کی طرف بلائیں گے۔ جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا وہ جہنم میں جائے گا۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان کی صفات بیان فرمائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے ہی ہوں گے، ہماری ہی زبان بولیں گے۔“ میں نے کہا: اگر میں انہیں پا لوں تو کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا۔“ میں نے پوچھا: اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت اور امام نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان تمام فِرقوں سے جدا رہنا، چاہے کسی درخت کی جڑ سے مل کر بیٹھ جانا یہاں تک کہ تجھے موت آجائے۔“