السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في تنبيه الإمام على من يراه أهلا للخلافة بعده باب: امام کا اس شخص کی طرف اشارہ (تنبیہ) کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان جسے وہ اپنے بعد خلافت کا اہل سمجھتا ہو۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صالحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، كَانَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ كَسَرَ سَيْفَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَطَبَ النَّاسَ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: وَاللهِ " مَا كُنْتُ حَرِيصًا عَلَى الْإِمَارَةِ يَوْمًا وَلَا لَيْلَةً قَطُّ، وَلَا كُنْتُ فِيهَا رَاغِبًا، وَلَا سَأَلْتُهَا اللهَ فِي سِرٍّ وَلَا عَلَانِيَةٍ، وَلَكِنِّي أَشْفَقْتُ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَمَا لِي فِي الْإِمَارَةِ مِنْ رَاحَةٍ، وَلَكِنْ قُلِّدْتُ أَمْرًا عَظِيمًا مَا لِي بِهِ طَاقَةٌ، وَلَا يُدَانُ إِلَّا بِتَقْوِيَةِ اللهِ، ولَوَدِدْتُ أَنَّ أَقْوَى النَّاسِ عَلَيْهَا مَكَانِي عَلَيْهَا الْيَوْمَ، فَقَبِلَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْهُ مَا قَالَ، وَمَا اعْتَذَرَ بِهِ، وَقَالَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: مَا غَضِبْنَا إِلَّا لِأَنَّا أُخِّرْنَا عَنِ الْمُشَاوَرَةِ، وَإِنَّا نَرَى أَبَا بَكْرٍ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُ لَصَاحِبُ الْغَارِ، وَثَانِي اثْنَيْنِ، وَإِنَّا لَنَعْرِفُ شَرَفَهُ وَكُبْرَهُ، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ بِالنَّاسِ وَهُوَ حَيٌّ ".ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار کو توڑ دیا تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کے سامنے اپنا عذر پیش کیا اور فرمایا: واللہ! مجھے کسی امارت کی نہ تو لالچ ہے اور نہ میں اس کی رغبت رکھتا ہوں اور نہ ظاہری اور نہ پوشیدہ میں اللہ سے اس کا سوال کرتا ہوں، بلکہ مجھے تو ایسے کام کا ذمہ دار بنا دیا گیا ہے کہ جس کو میں اٹھا نہیں سکتا مگر صرف اللہ کی مدد کے ساتھ۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مجھ سے بھی زیادہ اہل لوگ موجود ہیں۔ تو مہاجرین نے ان کی بات اور عذر کو قبول کیا اور سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم تو اس لیے پیچھے تھے کہ ہم سے مشورہ نہیں لیا تھا، ورنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے بعد سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ آپ کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔