❮
❯
حدیث نمبر: 16587
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صالحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، كَانَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ كَسَرَ سَيْفَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَطَبَ النَّاسَ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: وَاللهِ " مَا كُنْتُ حَرِيصًا عَلَى الْإِمَارَةِ يَوْمًا وَلَا لَيْلَةً قَطُّ، وَلَا كُنْتُ فِيهَا رَاغِبًا، وَلَا سَأَلْتُهَا اللهَ فِي سِرٍّ وَلَا عَلَانِيَةٍ، وَلَكِنِّي أَشْفَقْتُ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَمَا لِي فِي الْإِمَارَةِ مِنْ رَاحَةٍ، وَلَكِنْ قُلِّدْتُ أَمْرًا عَظِيمًا مَا لِي بِهِ طَاقَةٌ، وَلَا يُدَانُ إِلَّا بِتَقْوِيَةِ اللهِ، ولَوَدِدْتُ أَنَّ أَقْوَى النَّاسِ عَلَيْهَا مَكَانِي عَلَيْهَا الْيَوْمَ، فَقَبِلَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْهُ مَا قَالَ، وَمَا اعْتَذَرَ بِهِ، وَقَالَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: مَا غَضِبْنَا إِلَّا لِأَنَّا أُخِّرْنَا عَنِ الْمُشَاوَرَةِ، وَإِنَّا نَرَى أَبَا بَكْرٍ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُ لَصَاحِبُ الْغَارِ، وَثَانِي اثْنَيْنِ، وَإِنَّا لَنَعْرِفُ شَرَفَهُ وَكُبْرَهُ، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ بِالنَّاسِ وَهُوَ حَيٌّ ".
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار کو توڑ دیا تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کے سامنے اپنا عذر پیش کیا اور فرمایا: واللہ! مجھے کبھی کسی دن یا رات امارت کا لالچ نہیں رہا اور نہ میں اس کی رغبت رکھتا تھا اور نہ ظاہری اور نہ پوشیدہ میں نے اللہ سے اس کا سوال کیا، لیکن مجھے فتنے کا ڈر تھا، اور امارت میں میرے لیے کوئی راحت نہیں، بلکہ مجھے تو ایسے بڑے کام کا ذمہ دار بنا دیا گیا ہے کہ جس کو میں اٹھا نہیں سکتا مگر صرف اللہ کی مدد کے ساتھ۔ میری تو خواہش ہے کہ آج اس کام کے لیے لوگوں میں سب سے زیادہ طاقتور شخص میری جگہ ہوتا۔ تو مہاجرین نے ان کی بات اور عذر کو قبول کیا اور سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم تو صرف اس لیے ناراض تھے کہ ہمیں مشورے سے پیچھے رکھا گیا، ورنہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ کے بعد سب سے زیادہ حق دار سمجھتے ہیں۔ وہ غار والے ساتھی اور دو میں سے دوسرے ہیں، اور ہم ان کے شرف اور بزرگی کو جانتے ہیں۔ آپ کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16587
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»