حدیث نمبر: 16588
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَل عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِئَ فِيهِ، فَقُلْتُ: وَارَأْسَاهُ، قَالَ: " لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيُّ فَأُصَلِّي عَلَيْكِ وَأَدْفِنُكِ "، قَالَتْ: فَقُلْتُ غَيْرَى: كَأَنِّي بِكَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ نِسَائِكَ، قَالَ: " أَنَا وَارَأْسَاهُ، ادْعِي لِي أَبَاكِ وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ، وَيَقُولُ قَائِلٌ، وَيَأْبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ ﷺ کی بیماری کی ابتدا ہوئی تو اس دن آپ ﷺ میرے گھر میں تشریف لائے، میں نے کہا: ”ہائے میرا سر“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ اگر تو میری زندگی میں فوت ہوگئی تو میں تجھ پر نماز پڑھوں گا اور تجھے دفن کروں گا“۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا آپ ﷺ تو اس دن اپنی بعض بیویوں کے ساتھ خوش ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: «وَا رَأْسَاهُ» ”ہائے میرا سر، اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے کچھ لکھ دوں؛ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ بعد میں کوئی تمنا کرے اور کوئی بات کہے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ جبکہ مؤمنین اور اللہ اس کا انکار کریں“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16588
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»