حدیث نمبر: 16586
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: " مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ يَؤُمَّ النَّاسَ، فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّْمَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَعُوذُ بِاللهِ أَنْ نَتَقَدَّْمَ أَبَا بَكْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ کی روح قبض کی گئی تو انصار کہنے لگے: ایک امیر ہم میں سے اور ایک تم میں سے ہوگا، تو عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: ”اے انصاریو! کیا تمہیں نہیں پتا کہ نبی ﷺ نے امامت کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے کیا تھا؟ تو تم میں سے کون خوشی سے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے ہونا چاہتا ہے؟“ تو انصار کہنے لگے: ”ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں کہ ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16586
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»