السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
جماع أبواب الرعاة -- باب: لا يصلح إمامان في عصر واحد باب: حکمرانوں (سربراہوں) سے متعلقہ ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: ایک ہی دور میں دو اماموں (خلفاء) کا ہونا درست نہیں ہے، اس امر کا بیان۔
حدیث نمبر: 16550
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خُطْبَتِهِ يَوْمَئِذٍ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي خُطْبَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يَكُونَ لِلْمُسْلِمِينَ أَمِيرَانِ، فَإِنَّهُ مَهْمَا يَكُنْ ذَلِكَ يَخْتَلِفْ أَمَرُهُمْ وَأَحْكَامُهُمْ، وَتَتَفَرَّقُ جَمَاعَتُهُمْ، وَيَتَنَازَعُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ، هُنَالِكَ تُتْرَكُ السُّنَّةُ، وَتَظْهَرُ الْبِدْعَةُ، وَتَعْظُمُ الْفِتْنَةُ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى ذَلِكَ صَلَاحٌ.حافظ ثناء اللہ
اسحاق، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس دن کا خطبہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: مسلمانوں میں دو امیر جائز نہیں، ہو سکتا ہے ان کے حکم فیصلے مختلف ہوں اور مسلمانوں میں فرقہ واریت پھیل جائے اور آپس میں تنازع ہو جائے، سنت چھوٹ جائے اور بدعت ظاہر ہو جائے اور فتنے سر اٹھائیں اور کسی کے لیے بھی اس میں بھلائی نہیں ہے۔