السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
جماع أبواب الرعاة -- باب: لا يصلح إمامان في عصر واحد باب: حکمرانوں (سربراہوں) سے متعلقہ ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: ایک ہی دور میں دو اماموں (خلفاء) کا ہونا درست نہیں ہے، اس امر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خُطْبَتِهِ يَوْمَئِذٍ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: دُونَكُمْ صَاحِبَكُمْ، لِبَنِي عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي فِي غُسْلِهِ يَكُونُ أَمْرُهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ يَتَشَاوَرُونَ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَشَاوَرُونَ إِذْ قَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِنَّ لَهُمْ فِي هَذَا الْحَقِّ نَصِيبًا، فَانْطَلَقُوا فَأَتَوُا الْأَنْصَارَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: مِنَّا رَجُلٌ وَمِنْكُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " سَيْفَانِ فِي غِمْدٍ وَاحِدٍ إِذًا لَا يَصْطَلِحَا، فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: مَنْ هَذَا الَّذِي لَهُ هَذِهِ الثَّلَاثُ: {إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ} [التوبة: ٤٠] مَنْ هُمَا؟ {إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ} [التوبة: ٤٠] مَنْ صَاحِبُهُ؟ {لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا} [التوبة: ٤٠] مَعَ مَنْ هُوَ؟ فَبَسَطَ عُمَرُ يَدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: بَايَعُوهُ، فَبَايَعَ النَّاسُ أَحْسَنَ بَيْعَةٍ وَأَجْمَلَهَا.سیدنا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ، جو اصحابِ صفہ میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس تھے۔ کہا گیا: اے نبی ﷺ کے ساتھی! کیا نبی ﷺ فوت ہو گئے ہیں؟ فرمایا: ہاں، اور انہیں پتا بھی چل گیا اور پھر فرمایا: اپنے صاحب کو اس کے چچا کے بیٹے کے لیے چھوڑ دو، یعنی غسل دینے کے لیے۔ پھر آئے مہاجرین اکٹھے ہو گئے اور مشورہ کرنے لگے اور کہنے لگے: انصاری بھائیوں کے پاس چلو، ان سے بھی مشورہ کرتے ہیں، ان کا بھی حق ہے۔ انصار کے پاس آئے تو ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا: ایک امیر تم میں سے اور ایک ہم میں سے ہو گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: دو تلواریں ایک میان میں، یہ صحیح نہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا: یہ تین آیات کس کے بارے میں ہیں: ﴿إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ﴾ [سورة التوبة: 40]، ﴿إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ﴾ [سورة التوبة: 40] اور ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ [سورة التوبة: 40]؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ کھولا، بیعت کی اور لوگوں کو بھی کہا تو لوگوں نے بہت اچھی بیعت کر لی۔