حدیث نمبر: 16461
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو قِلَابَةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَسَأَلَهُمْ عَنِ الْقَسَامَةِ، قَالُوا: أَقَادَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَالْخُلَفَاءُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ؟ قَالَ: عِنْدَكَ رُءُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ، شَهِدَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ أَنَّهُ سَرَقَ وَلَمْ يَرَوْهُ أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: شَهِدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ أَنَّهُ زَنَى وَلَمْ يَرَوْهُ أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَذَا أَشْبَهُ، وَاللهِ مَا عَلِمْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ أَحَدًا، إِلَّا أَنْ يَقْتُلَ رَجُلًا فَيُقْتَلَ بِهِ، قَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ: فَأَيْنَ حَدِيثُ الْعُرَنِيِّينَ؟ فَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ: إِيَّايَ حَدَّثَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ قَوْمًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَانْطَلَقُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا فَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ قَتَلُوا وَسَرَقُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانَهِمْ فَقَالَ عَنْبَسَةُ: سُبْحَانَ اللهِ فَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ: أَتَتَّهِمُنِي يَا عَنْبَسَةُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ هَذَا الْجُنْدَ لَا يَزَالُ بِخَيْرٍ مَا أَبْقَاكَ اللهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ⦗٢٢١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَارُونَ الْحَمَّالِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ

ابو رجاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ابو قلابہ رحمہ اللہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس تھے، انہوں نے قسامہ کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے جواب دیا کہ ”نبی ﷺ اور خلفاء راشدین نے اس کے ساتھ قصاص لیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے ابو قلابہ! کیا کہتے ہو؟“ اور کہا: ”آپ کے پاس بڑے بڑے رئیس اور اشرافِ عرب موجود ہیں، بڑے بڑے لشکر موجود ہیں۔ اگر اہل حمص کا ایک شخص اہل دمشق کے ایک شخص پر بغیر دیکھے چوری کا الزام لگا دے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اگر ایسے ہی چار آدمی بغیر دیکھے زنا پر گواہی دے دیں تو کیا آپ اسے رجم کریں گے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ تو عمر رحمہ اللہ کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! معاملہ ایسے ہی ہے، ہم نے تو نہیں سنا کہ اس طرح قسامہ کی صورت میں نبی ﷺ نے کسی کو قتل کیا ہو۔“ عنبسہ بن سعید رحمہ اللہ کہنے لگے: ”پھر وہ عرینیین والی حدیث کہاں گئی؟“ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہنے لگے: ”یہی حدیث ہمیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے سنائی کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے چند لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی تو آپ ﷺ نے ان کو اونٹوں کے چرواہے کے ساتھ رہنے کا حکم دیا کہ وہ ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ وہ چلے گئے، جب انہیں صحت ہو گئی تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ گئے۔ نبی ﷺ کو دن کے ابتدائی حصے میں اس کا پتا چلا۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے لوگ بھیجے اور دن چڑھے تک ان کو پکڑ کر آپ کے پاس لے آئے، آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر دھوپ میں پھینک دیا، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ یہ لوگ تھے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد قتل، چوری اور پھر کفر کیا۔“ عنبسہ رحمہ اللہ کہنے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ۔“ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہنے لگے کہ ”عنبسہ! کیا تم مجھ پر جھوٹ کی تہمت لگاتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔ بلکہ جب تک اللہ آپ کو ان کے درمیان باقی رکھیں گے، اللہ ان لوگوں کو بھلائی پر ہی رکھیں گے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16461
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»