السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
باب: ترك القود بالقسامة باب: قسامہ کی بنیاد پر قصاص ترک کر دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ؟ قَالَ: فَأَضَبَّ النَّاسُ، قَالُوا: نَقُولُ: الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ، قَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ، قَالَ: مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ؟ وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَكَ رُءُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِدِمَشْقَ مُحْصَنٍ أَنَّهُ قَدْ زَنَى لَمْ يَرَوْهُ، أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: أفَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ لَمْ يَرَوْهُ، أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَوَاللهِ مَا قَتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَطُّ، إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ يُقْتَلُ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي السَّرَقِ وَسَمَرَ الْأَعْيُنَ وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا؟ فَقُلْتُ: أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، إِيَّايَ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ وَسَقَمَتْ أَجْسَادُهُمْ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا؟ قَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَصَحُّوا وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاطَّرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَنُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا قُلْتُ: وَأِيُّ شَيْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ: ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا، وَسَرَقُوا فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ: وَاللهِ، إِنْ سَمِعْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، قُلْتُ: تَرُدُّ عَلَيَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ، وَاللهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَقُتِلَ، فَخَرَجُوا بَعْدَهُ فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَرَجَعُوا إِلَى ⦗٢٢٢⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ صَاحِبُنَا كَانَ يَتَحَدَّثُ مَعَنَا فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ مَنْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ؟ قَالُوا: نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ، فَقَالَ: أَنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: أَتَرْضَوْنَ نَفْلَ خَمْسِينَ مِنَ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ؟ فَقَالُوا: مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْفُلُونَ، قَالَ: أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةِ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ؟ قَالُوا: مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ قُلْتُ: وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْيَمَنِ، بِالْبَطْحَاءِ فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَّ فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَوْسِمِ، وَقَالُوا: قَتَلَ صَاحِبَنَا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ، فَقَالَ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوا، قَالَ: فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا، وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّامِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلًا آخَرَ فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي الْمَقْتُولِ فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ، قَالَ: فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةٍ أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ، فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَى الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمَاتُوا جَمِيعًا، وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ، وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ، فَعَاشَ حَوْلًا ثُمَّ مَاتَ قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا بِالْقَسَامَةِ، ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَمَا صَنَعَ، فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّامِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَحَدِيثُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَتِيلِ مُرْسَلٌ، وَكَذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْهُذَلِيِّ.سابقہ روایت
میں کہتا ہوں: اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی سنت موجود ہے کہ آپ ﷺ کے پاس کچھ انصاری آئے اور آپ کے پاس باتیں کرنے لگے، ان میں سے ایک آدمی ان سے پہلے باہر نکلا اور قتل کر دیا گیا۔ جب وہ اس کے بعد نکلے تو اپنے ساتھی کو خون میں لت پت تڑپتا ہوا پایا، تو رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارا ساتھی ہمارے ساتھ باتیں کر رہا تھا، وہ ہم سے پہلے باہر نکلا، پھر ہم نے اسے خون میں لت پت تڑپتا ہوا پایا۔ تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور پوچھا: ”کس پر گمان کرتے ہو کہ اس نے قتل کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہمارے خیال میں یہودیوں نے قتل کیا ہے۔ آپ ﷺ نے یہود کو بلوا کر پوچھا کہ کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ یہود کے پچاس آدمی قسم اٹھائیں کہ انہوں نے قتل نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: انہیں کوئی پروا نہیں کہ ہم سب کو قتل کر دیں، پھر (جھوٹی) قسمیں اٹھا لیں۔ پھر پوچھا: ”کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں سے دیت کے مستحق بنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم قسم نہیں اٹھائیں گے۔ تو آپ ﷺ نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔
میں کہتا ہوں: ہذیل نے جاہلیت میں اپنے ایک آدمی سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا، اس نے بطحاء میں یمن کے ایک گھرانے پر رات کو حملہ کیا تو ان میں سے ایک شخص جاگ گیا اور اسے تلوار مار کر قتل کر دیا۔ تو ہذیل کے لوگ آئے اور یمانی کو پکڑ کر موسمِ حج میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے اور کہا: اس نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے۔ تو اس نے کہا: انہوں نے تو اس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہذیل کے پچاس آدمی قسم اٹھائیں کہ انہوں نے اس سے لاتعلقی نہیں کی تھی۔ تو ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم اٹھا لی، پھر ان کا ایک آدمی شام سے آیا تو انہوں نے اس سے قسم اٹھانے کو کہا، تو اس نے ایک ہزار درہم دے کر اپنی قسم کا فدیہ دے دیا، تو انہوں نے اس کی جگہ ایک اور آدمی شامل کر لیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یمانی کو مقتول کے بھائی کے حوالے کر دیا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ وہ دونوں اور وہ پچاس جنہوں نے قسم اٹھائی تھی چلے، جب نخلہ پہنچے تو بارش نے انہیں آ لیا، وہ پہاڑ کے ایک غار میں چلے گئے، تو وہ غار ان پچاس پر گر پڑا جنہوں نے قسم اٹھائی تھی اور وہ سب مر گئے، اور وہ دونوں بندھے ہوئے بچ نکلے، لیکن ایک پتھر ان کے پیچھے لڑھکا جس نے مقتول کے بھائی کی ٹانگ توڑ دی، تو وہ ایک سال زندہ رہا اور پھر مر گیا۔
میں کہتا ہوں کہ عبدالملک بن مروان نے ایک شخص سے قسامہ کے ساتھ قصاص لیا، پھر اپنے کیے پر نادم ہوئے اور ان پچاس قسم اٹھانے والوں کے بارے میں حکم دیا تو وہ رجسٹر سے مٹا دیے گئے اور انہیں شام کی طرف جلا وطن کر دیا۔
ان (ابو قلابہ) کی نبی ﷺ سے مقتول کے بارے میں یہ روایت مرسل ہے، اور اسی طرح ہذلی کے قصے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت بھی مرسل ہے۔