السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما جاء في جراح المرأة باب: عورت کے زخموں کی دیت و قصاص کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمَّا قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: هِيَ السُّنَّةُ أَشْبَهَ أَنْ يَكُونَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ عَامَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَلَمْ يُشْبِهْ زَيْدٌ أَنْ يَقُولَ هَذَا مِنْ جِهَةِ الرَّأْيِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَحْمِلُهُ الرَّأْيُ وَلَا يَكُونُ فِيمَا قَالَ سَعِيدٌ السُّنَّةُ، إِذَا كَانَ يُخَالِفُ الْقِيَاسَ وَالْعَقْلَ إِلَّا عِلْمُ اتِّبَاعٍ فِيمَا نَرَى، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ كُنَّا نَقُولُ بِهِ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى، ثُمَّ وَقَفْتُ عَنْهُ، وَأَسْأَلُ اللهَ الْخِيَرَةَ مِنْ قَبْلُ، إِنَّا قَدْ نَجِدُ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: السُّنَّةُ، ثُمَّ لَا نَجِدُ لِقَوْلِهِ: السُّنَّةُ نَفَاذًا بِأَنَّهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْقِيَاسُ أَوْلَى بِنَا فِيهَا، قَالَ: وَلَا يَثْبُتُ عَنْ زَيْدٍ إِلَّا كَثُبُوتِهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ، مِثْلَ قَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَهُوَ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابن مسیب رحمہ اللہ نے یہ کہا کہ یہ سنت ہے تو مجھے یہ شبہ ہے کہ یہ نبی ﷺ سے ہے یا عام صحابہ سے۔ زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں شبہ نہیں کہ انہوں نے رائے سے کہا ہو کیونکہ رائے تو اس پر محمول ہوتی ہے اور نہ اس میں جس کے بارے میں سعید رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ سنت ہے، جب وہ قیاس کے خلاف ہو اور دیت یہ اتباع کے علم سے ہوتی ہے ہماری رائے کے مطابق واللہ اعلم۔ ہم بھی اسی معنیٰ میں یہ کہا کرتے تھے لیکن پھر رک گئے اور میں اللہ سے بھلائی کا ہی سوال کرتا ہوں کہ ہم کوئی شخص ایسا پائیں کہ جو اسے سنت کہے۔ پھر ہم ایسا نہ پائیں جو اسے سنت نبوی سمجھ کر نافذ نہ کرے۔ ہمارے نزدیک اس میں قیاس اولیٰ ہے اور فرمایا: زید رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح ثابت ہے جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔