السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما جاء في جراح المرأة باب: عورت کے زخموں کی دیت و قصاص کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16311
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ: كَمْ فِي إِصْبَعِ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: عَشْرٌ قَالَ: كَمْ فِي اثْنَتَيْنِ؟ قَالَ: عِشْرُونَ قَالَ: كَمْ فِي ثَلَاثٍ؟ قَالَ: ثَلَاثُونَ قَالَ: كَمْ فِي أَرْبَعٍ؟ قَالَ: عِشْرُونَ قَالَ رَبِيعَةُ: حِينَ عَظُمَ جَرْحُهَا وَاشْتَدَّتْ مُصِيبَتُهَا نَقَصَ عَقْلُهَا؟ قَالَ: أَعِرَاقِيٌّ أَنْتَ؟ قَالَ رَبِيعَةُ: عَالِمٌ مُتَثَبِّتٌ، أَوْ جَاهِلٌ مُتَعَلِّمٌ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنَّهَا السُّنَّةُ.حافظ ثناء اللہ
ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ عورت کی انگلی کی دیت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دس اونٹ۔ پوچھا: دو انگلیوں میں؟ فرمایا: بیس۔ پوچھا: تین میں؟ فرمایا: تیس۔ پوچھا: چار میں؟ فرمایا: بیس۔ ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب زخم بڑھ جائے اور تکلیف زیادہ ہو تو دیت کم ہوجائے گی۔ پوچھا: کیا تو عراقی ہے؟ ربیعہ رحمہ اللہ نے کہا: مضبوط عالم یا متعلم جاہل؟ فرمایا: اے بھتیجے! یہ سنت ہے۔