❮
❯
حدیث نمبر: 16313
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، بِبُخَارَا، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخَمْسٍ مِنْ صَوَافِي الْأُمَرَاءِ: أَنَّ الْأَسْنَانَ سَوَاءٌ، وَالْأَصَابِعَ سَوَاءٌ، وَفِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا، وَأَنَّ الرَّجُلَ يُسْأَلُ عِنْدَ مَوْتِهِ عَنْ وَلَدِهِ فَأَصْدَقُ مَا يَكُونُ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَجِرَاحَةُ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ سَوَاءٌ إِلَى الثُّلُثِ مِنْ دِيَةِ الرَّجُلِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَقَدْ خُولِفَ فِي لَفْظِهِ وَحُكْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے پانچ باتیں لکھ کر بھیجیں کہ دانت اور انگلیاں آپس میں برابر ہیں اور جانور کی آنکھ میں اس کی قیمت کا چوتھائی ہے اور آدمی سے اس کی موت کے وقت اس کے بچے کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اپنی موت کے وقت سب سے زیادہ سچا ہوتا ہے اور ثلث دیت تک مردوں اور عورتوں کے زخم برابر ہیں۔
جابر جعفی قابلِ حجت نہیں اور اس روایت کے الفاظ اور حکم میں اس کی مخالفت کی گئی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16313
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»