حدیث نمبر: 1625
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ ثنا الْأَعْمَشُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ثنا وَكِيعٌ ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ اجْتَنِبِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ وَهَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ وَقُرَّةُ بْنُ عِيسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَجَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيِّ ⦗٥٠٩⦘ وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو أُسَامَةَ وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ فَوَقَفُوهُ عَلَى عَائِشَةَ وَاخْتَصَرُوهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيِّ إِلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ قُلْنَا: مِنْ عِنْدِ ابْنِ دَاوُدَ فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ؟ قُلْنَا: حَدَّثَنَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ الْحَدِيثَ فَقَالَ يَحْيَى: أَمَا إِنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا، زَعَمَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ شَيْئًا وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيَّ يَقُولُ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ شَيْئًا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: حَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ لَا شَيْءَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: حَبِيبٌ ثَبْتٌ؟ قَالَ: نَعَمْ إِنَّمَا رَوَى حَدِيثَيْنِ قَالَ: أَظُنُّ يَحْيَى يُرِيدُ مُنْكَرَيْنِ حَدِيثُ: تُصَلِّي الْحَائِضُ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ وَحَدِيثُ الْقُبْلَةِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ ضَعِيفٌ وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ هَذَا أَنَّ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ وَقَفَهُ عَلَى عَائِشَةَ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا وَوَقَفَهُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ ⦗٥١٠⦘ عَنِ الْأَعْمَشِ وَرَوَاهُ ابْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ هَذَا أَنَّ رِوَايَةَ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، اپنے حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھ، پھر غسل کر اور ہر نماز کے لیے وضو کر، اگرچہ خون چٹائی پر گرتا ہے۔“
(ب) حفص بن غیاث، ابو اسامہ اور اسباط بن محمد نے اعمش سے نقل کیا ہے اور انہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف قرار دیا ہے۔
(ج) عبدالرحمن بن بشر بن حکم کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن داؤد خریبی کے پاس سے یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: ابن داؤد کے پاس سے۔ انہوں نے پوچھا: تم سے کیا بیان کیا؟ ہم نے کہا: اعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن عروہ عن عائشہ۔ یحییٰ نے کہا: سفیان ثوری رحمہ اللہ اس (سند) کو لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں، ان کا گمان ہے کہ حبیب بن ابی ثابت کا عروہ بن زبیر سے سماع ثابت نہیں ہے۔
(د) شیخ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حبیب بن ابی ثابت کا عروہ بن زبیر سے سماع ثابت نہیں ہے۔ امام یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: حبیب کے عروہ سے روایت کرنے میں کوئی حیثیت نہیں۔
(ر) عباس بن محمد دوری کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حبیب کی روایات ثابت ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر انہوں نے دو روایات بیان کی ہیں۔ عباس کا گمان ہے کہ ان کی مراد دو منکر روایات ہیں: (۱) حائضہ نماز پڑھے گی اگرچہ خون چٹائی پر گرے اور دوسری حدیثِ قبلہ۔
(س) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعمش کی جو حدیث حبیب سے ہو وہ ضعیف ہے۔
(ش) اعمش کی حبیب سے حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل حفص بن غیاث کا موقوف ٹھہرانا ہے۔ انہوں نے حبیب کی حدیث کے مرفوع ہونے سے انکار کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے بھی اعمش سے نقل بیان کی ہے۔ ابن داؤد نے اعمش سے مرفوع نقل کی ہے اور اس بات کا انکار کیا ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو ہو۔ حبیب کی حدیث کے ضعیف ہونے پر دلیل زہری کی روایت ہے جو عروہ عن عائشہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتی تھیں۔ یہ مستحاضہ والی حدیث میں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحيض / حدیث: 1625
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ»