السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: المستحاضة تغسل عنها أثر الدم وتغتسل وتستثفر بثوب وتصلي ثم تتوضأ لكل صلاة باب: مستحاضہ خون کا اثر دھو لے گی، غسل کرے گی، کپڑے کا لنگوٹ کس کر باندھے گی اور نماز پڑھے گی پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1624
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةُ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: " لَا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضِ فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي " قَالَ: قَالَ أَبِي: ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى دُونَ قَوْلِ عُرْوَةَ وَقَوْلُ عُرْوَةَ فِيهِ صَحِيحٌ وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، جب تیرا حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے جسم سے خون دھو، پھر نماز پڑھ۔“ راوی کہتے ہیں: میرے باپ نے کہا: پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ (دوسری نماز کا) وقت آجائے۔