حدیث نمبر: 16074
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، هُوَ ابْنُ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ ⦗١٠٦⦘ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ قَتَلَ عَمْدًا فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَعَفَا بَعْضُ الْأَوْلِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: كَانَتِ النَّفْسُ لَهُمْ جَمِيعًا، فَلَمَّا عَفَا هَذَا أَحْيَا النَّفْسَ، فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْخُذَ حَقَّهُ حَتَّى يَأْخُذَ غَيْرُهُ قَالَ: فَمَا تَرَى؟ قَالَ: أَرَى أَنْ تَجْعَلَ الدِّيَةَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، وَتَرْفَعَ حِصَّةَ الَّذِي عَفَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالْمَوْصُولُ قَبْلَهُ يُؤَكِّدُهُ.
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا فیصلہ لایا گیا جس نے قتلِ عمد کیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بعض اولیاء نے اسے معاف کر دیا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر بھی اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو فرمایا: یہ سب اس کے وارث ہیں، تو بعض نے معاف کر دیا تو کس طرح اسے قتل کیا جا سکتا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: دیت لگائی جائے، جتنا حصہ معاف کر دیا گیا ہے، اسے چھوڑ کر باقی دیت لے لی جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا بھی یہی فیصلہ ہے۔
یہ منقطع ہے، اس سے پہلے والا متصل ہے وہ اس کی تائید کرتا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16074
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»