السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
جماع أبواب القصاص بالسيف -- باب: إمكان الإمام ولي الدم من القاتل يضرب عنقه باب: تلوار کے ذریعے قصاص لینے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: امام (حکمران) کا مقتول کے وارث کو قاتل پر قابو دینا تاکہ وہ اس کی گردن مار دے۔
حدیث نمبر: 16075
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ هَارُونَ السِّمَّرِيُّ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ حَمْزَةَ أَبِي عُمَرَ الْعَائِذِيِّ، ح، وَثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ، أَظُنُّهُ، عَنْ حَمْزَةَ الْعَائِذِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِيءَ بِالْقَاتِلِ الَّذِي قَتَلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ بِهِ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَعْفُو؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " أَتَقْتُلُ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاذْهَبْ بِهِ " فَلَمَّا ذَهَبَ دَعَاهُ فَقَالَ: " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ " فَعَفَا عَنْهُ فَأَرْسَلَهُ قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَهُوَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک قاتل رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ ﷺ نے ولی المقتول سے پوچھا: ”کیا تم اسے معاف کرتے ہو؟“ کہنے لگا: نہیں، پھر پوچھا: ”دیت پر راضی ہوتے ہو؟“ کہا: نہیں، پوچھا: ”اسے قتل کرو گے؟“ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”تو ٹھیک ہے، اسے لے جاؤ۔“ وہ اسے لے گیا، پھر آپ ﷺ نے بلایا اور فرمایا: ”اگر تو اسے معاف کر دے تو تیرے اور مقتول کے گناہ اس پر ہوں گے۔“ تو اس نے اسے معاف کر دیا، فرماتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے تسمے کو کھینچتے ہوئے جا رہا تھا۔