السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: عفو بعض الأولياء عن القصاص دون بعض باب: کچھ ورثاء کا قصاص معاف کر دینے اور کچھ کا نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16073
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا، قَتَلَ امْرَأَتَهُ، اسْتَعْدَى ثَلَاثَةُ إِخْوَةٍ لَهَا عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَعَفَا أَحَدُهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْبَاقِيَيْنِ: خُذَا ثُلُثَيِ الدِّيَةِ، فَإِنَّهُ لَا سَبِيلَ إِلَى قَتْلِهِ.حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا، عورت کے تین بھائیوں نے بدلہ طلب کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ آیا، ایک بھائی نے معاف کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے باقی دو کو بھی فرمایا: دیت لے لو، اب قتل کی کوئی راہ نہیں ہے۔