کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کچھ ورثاء کا قصاص معاف کر دینے اور کچھ کا نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16070
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشَّاذْيَاخِيُّ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗١٠٥⦘ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حِصْنٌ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى الْمُقْتَتِلِينَ أَنْ يَنْحَجِزُوا الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے وارثوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر ان میں پہلا قصاص سے معاف کر دے تو پہلے کی بات ہی مانو اگرچہ وہ عورت ہی ہو۔“
حدیث نمبر: 16071
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْقَتِيلِ أَنْ يَنْحَجِزُوا الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى، وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً: وَذَلِكَ أَنْ يُقْتَلَ الْقَتِيلُ وَلَهُ وَرَثَةٌ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ، يَقُولُ: " فَأَيُّهُمْ عَفَا عَنْ دَمِهِ مِنَ الْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ مِنْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ فَعَفْوُهُ جَائِزٌ؛ لِأَنَّ قَوْلَهُ يَنْحَجِزُوا يَعْنِي يَكُفُّوا عَنِ الْقَوَدِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عبید رحمہ اللہ حدیثِ رسول ﷺ میں اہل مقتول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر ان کا ادنیٰ بھی رکاوٹ بنے تو چاہے وہ عورت ہو اور اس کے لیے مردوں اور عورتوں کی وراثت ہوگی اور ساتھ یہ بھی فرما رہے تھے کہ جو بھی قریبی مرد ہو یا عورت اگر درگزر کر دے تو اس کا معاف کرنا جائز ہے، اس لیے کہ اس کے قول «يَنْحَجِزُوا» کا معنیٰ ہے کہ ”وہ قصاص سے رک جائیں۔“
حدیث نمبر: 16072
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَ عَلَيْهَا بَعْضُ إِخْوَتِهَا فَتَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِنَصِيبِهِ، فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِسَائِرِهِمْ بِالدِّيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے پاس غیر مرد کو دیکھا تو اس عورت کو قتل کر دیا، یہ فیصلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، مقتولہ کے کچھ بھائیوں نے اپنا حصہ صدقہ کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تمام کے لیے دیت کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 16073
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا، قَتَلَ امْرَأَتَهُ، اسْتَعْدَى ثَلَاثَةُ إِخْوَةٍ لَهَا عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَعَفَا أَحَدُهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْبَاقِيَيْنِ: خُذَا ثُلُثَيِ الدِّيَةِ، فَإِنَّهُ لَا سَبِيلَ إِلَى قَتْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا، عورت کے تین بھائیوں نے بدلہ طلب کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ آیا، ایک بھائی نے معاف کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے باقی دو کو بھی فرمایا: دیت لے لو، اب قتل کی کوئی راہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16074
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، هُوَ ابْنُ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ ⦗١٠٦⦘ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ قَتَلَ عَمْدًا فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَعَفَا بَعْضُ الْأَوْلِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: كَانَتِ النَّفْسُ لَهُمْ جَمِيعًا، فَلَمَّا عَفَا هَذَا أَحْيَا النَّفْسَ، فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْخُذَ حَقَّهُ حَتَّى يَأْخُذَ غَيْرُهُ قَالَ: فَمَا تَرَى؟ قَالَ: أَرَى أَنْ تَجْعَلَ الدِّيَةَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، وَتَرْفَعَ حِصَّةَ الَّذِي عَفَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالْمَوْصُولُ قَبْلَهُ يُؤَكِّدُهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا فیصلہ لایا گیا جس نے قتلِ عمد کیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بعض اولیاء نے اسے معاف کر دیا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر بھی اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو فرمایا: یہ سب اس کے وارث ہیں، تو بعض نے معاف کر دیا تو کس طرح اسے قتل کیا جا سکتا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: دیت لگائی جائے، جتنا حصہ معاف کر دیا گیا ہے، اسے چھوڑ کر باقی دیت لے لی جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا بھی یہی فیصلہ ہے۔
یہ منقطع ہے، اس سے پہلے والا متصل ہے وہ اس کی تائید کرتا ہے۔
یہ منقطع ہے، اس سے پہلے والا متصل ہے وہ اس کی تائید کرتا ہے۔