السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: عفو بعض الأولياء عن القصاص دون بعض باب: کچھ ورثاء کا قصاص معاف کر دینے اور کچھ کا نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16072
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَ عَلَيْهَا بَعْضُ إِخْوَتِهَا فَتَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِنَصِيبِهِ، فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِسَائِرِهِمْ بِالدِّيَةِ.حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے پاس غیر مرد کو دیکھا تو اس عورت کو قتل کر دیا، یہ فیصلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، مقتولہ کے کچھ بھائیوں نے اپنا حصہ صدقہ کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تمام کے لیے دیت کا حکم دے دیا۔