السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: عفو بعض الأولياء عن القصاص دون بعض باب: کچھ ورثاء کا قصاص معاف کر دینے اور کچھ کا نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16071
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْقَتِيلِ أَنْ يَنْحَجِزُوا الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى، وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً: وَذَلِكَ أَنْ يُقْتَلَ الْقَتِيلُ وَلَهُ وَرَثَةٌ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ، يَقُولُ: " فَأَيُّهُمْ عَفَا عَنْ دَمِهِ مِنَ الْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ مِنْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ فَعَفْوُهُ جَائِزٌ؛ لِأَنَّ قَوْلَهُ يَنْحَجِزُوا يَعْنِي يَكُفُّوا عَنِ الْقَوَدِ ".حافظ ثناء اللہ
ابو عبید رحمہ اللہ حدیثِ رسول ﷺ میں اہل مقتول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر ان کا ادنیٰ بھی رکاوٹ بنے تو چاہے وہ عورت ہو اور اس کے لیے مردوں اور عورتوں کی وراثت ہوگی اور ساتھ یہ بھی فرما رہے تھے کہ جو بھی قریبی مرد ہو یا عورت اگر درگزر کر دے تو اس کا معاف کرنا جائز ہے، اس لیے کہ اس کے قول «يَنْحَجِزُوا» کا معنیٰ ہے کہ ”وہ قصاص سے رک جائیں۔“