حدیث نمبر: 16014
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ بِالْمَدِينَةِ وَقَفَ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، فَقَالَ: كَيْفَ فَعَلْتُمَا، تَخَافَانِ أَنْ تَكُونَا قَدْ حَمَّلْتُمَا الْأَرْضَ مَا لَا تُطِيقُ؟ قَالَا: حَمَّلْنَاهَا أَمْرًا هِيَ لَهُ مُطِيقَةٌ، وَقَالَ حُذَيْفَةُ: لَوْ حَمَّلْتُ عَلَيْهَا أُضْعِفَتْ، وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: حَمَّلْتُهَا أَمْرًا هِيَ لَهُ مُطِيقَةٌ، مَا فِيهَا كَبِيرُ فَضْلٍ قَالَ: انْظُرْ أَلَّا تَكُونَا حَمَّلْتُمَا الْأَرْضَ مَا لَا تُطِيقُ، قَالَا: لَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَئِنْ سَلَّمَنِي اللهُ لَأَدَعَنَّ أَرَامِلَ الْعِرَاقِ لَا يَحْتَجْنَ إِلَى رَجُلٍ بَعْدِي قَالَ: فَمَا أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا أَرْبَعَةٌ حَتَّى أُصِيبَ، قَالَ: وَإِنِّي لَقَائِمٌ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ غَدَاةَ ⦗٨٥⦘ أُصِيبَ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا مَرَّ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ قَامَ، فَإِنْ رَأَى خَلَلًا قَالَ: اسْتَوُوا، حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِمْ خَلَلًا تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ قَالَ: وَرُبَّمَا قَرَأَ بِسُورَةِ يُوسُفَ أَوِ النَّحْلِ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ قَالَ: فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ كَبَّرَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " قَتَلَنِي الْكَلْبُ، أَوْ أَكَلَنِي الْكَلْبُ حِينَ طَعَنَهُ، فَطَارَ الْعِلْجُ بِالسِّكِّينِ ذَاتِ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا، وَلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ حَتَّى طَعَنَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَمَاتَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَرَحَ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَلَمَّا ظَنَّ الْعِلْجُ أَنَّهُ مَأْخُوذٌ نَحَرَ نَفْسَهُ قَالَ: وَتَنَاوَلَ عُمَرُ يَدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا فَقَدَّمَهُ قَالَ: فَمَنْ يلِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ رَأَى الَّذِي رَأَى، وَأَمَّا نَوَاحِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُمْ لَا يَدْرُونَ غَيْرَ أَنَّهُمْ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُمْ يَقُولُونَ سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَاةً خَفِيفَةً، فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ انْظُرْ مَنْ قَتَلَنِي فَجَالَ سَاعَةً ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: غُلَامُ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ: الصَّنِعُ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: قَاتَلَهُ اللهُ لَقَدْ كُنْتُ أَمَرْتُ بِهِ مَعْرُوفًا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يجْعَلْ مِيتَتِي بِيَدِ رَجُلٍ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ، وَقَالَ: قَدْ كُنْتَ أَنْتَ وَأَبُوكَ تُحِبَّانِ أَنْ تَكْثُرَ الْعُلُوجُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: وَكَانَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَكْثَرَهُمْ رَقِيقًا، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَعَلْنَا، أَيْ إِنْ شِئْتَ قَتَلْنَا قَالَ: كَذَبْتَ، بَعْدَمَا تَكَلَّمُوا بِلِسَانِكُمْ وَصَلَّوْا قِبْلَتَكُمْ، وَحَجُّوا حَجَّكُمْ فَاحْتُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ قَالَ: وَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ تُصِبْهُمْ مُصِيبَةٌ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ، فَقَائِلٌ يَقُولُ: لَا بَأْسَ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: نَخَافُ عَلَيْهِ فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ مَيِّتٌ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصَايَاهُ وَأَمْرِ الشُّورَى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی ہونے سے چند دن قبل مدینہ منورہ میں دیکھا تھا، وہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے تھے اور فرما رہے تھے: ”کیا تم دونوں ڈرتے نہیں ہو کہ تم نے زمین پر اس قدر خراج مقرر کر دیا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتی؟“ وہ دونوں کہنے لگے: ”ہم نے اسے اس کی طاقت پر ہی محمول رکھا ہے۔“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اگر میں اسے محمول کرتا تو اس سے بھی کم کر دیتا۔“ اور سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں نے زمین پر کوئی بھاری بوجھ محمول نہیں کیا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ایسے نہ ہو جانا کہ زمین پر ایسا بوجھ ڈالو جو وہ اٹھا نہ سکے۔“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں عراق کی بیواؤں کے لیے ایسا انتظام کروں گا کہ وہ میرے بعد کسی کی محتاج نہیں رہیں گی۔“ ابھی چار دن ہی گزرے تھے کہ یہ واقعہ پیش آگیا۔ وہ کہتے ہیں: جس صبح ان کو وہ تکلیف پہنچی، میرے اور ان کے درمیان صرف سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی تھے، وہ صفوں کے درمیان پھر کر صفوں کے خلا (گیپ) درست کروا رہے تھے، جب صفیں برابر ہو گئیں تو آگے بڑھے اور تکبیر کہی اور پہلی رکعت میں ﴿سورة يوسف﴾ [سورة يوسف] یا ﴿سورة النحل﴾ [سورة النحل] کی تلاوت کی یہاں تک کہ لوگ جمع ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ قریب تھے کہ رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے کہ میں نے سنا وہ فرما رہے تھے: ”مجھے کتے نے قتل کر دیا، مجھے کتے نے کاٹ لیا!“ تو وہ شخص (قاتل) بھاگا، اس کے پاس دو دھاری چھری تھی اور وہ ادھر ادھر مارتے ہوئے بھاگا تو اس نے 13 آدمیوں کو زخمی کیا، ان میں سے 9 فوت ہو گئے تھے۔ جب ایک مسلمان نے اسے دیکھا تو اس پر اپنی چادر ڈال دی، جب اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ پکڑا جائے گا تو اس نے اپنا بھی گلا کاٹ لیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں نماز کے لیے آگے کر دیا۔ مسجد کے کونوں میں جو لوگ تھے انہیں اس واقعے کا علم نہ ہو سکا، تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی قرآت کی آواز نہ آنے کی وجہ سے «سُبْحَانَ اللّٰهِ!»، «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» کہنا شروع کر دیا، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مختصر سی نماز پڑھائی۔ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”دیکھو مجھے کس نے زخمی کیا ہے؟“ تو وہ کچھ دیر کے بعد آئے اور بتایا: ”مغیرہ (بن شعبہ) کے غلام نے۔“ پوچھا: ”اس صنعت کار (ابولؤلؤ فیروز) نے؟“ کہا: ”جی ہاں۔“ فرمایا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ!» ”اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں لکھی جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔“ اور فرمایا: ”تم اور تمہارے والد (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ) یہ پسند کرتے تھے کہ مدینہ میں کافر زیادہ ہو جائیں۔“ (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ غلاموں والے تھے) تو وہ کہنے لگے: ”اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں قتل کر دیں؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم غلط کہتے ہو! جب انہوں نے تمہاری زبان میں بات کر لی، تمہارے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی اور تمہاری طرح حج کر لیا، تو اب تم انہیں قتل نہیں کر سکتے۔“ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کو گھر لایا گیا اور لوگوں کی حالت یہ تھی کہ گویا جتنی بڑی مصیبت آج انہیں پہنچی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچی تھی۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ کچھ نہیں ہوگا اور کوئی کہہ رہا تھا کہ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بہت اندیشہ ہے۔ پھر آپ کے پاس نبیذ لایا گیا، وہ آپ نے پیا تو وہ پیٹ کے زخم سے باہر نکل گیا، پھر دودھ لایا گیا تو وہ بھی زخم سے باہر نکل گیا، تب لوگ سمجھ گئے کہ اب آپ رضی اللہ عنہ وفات پا جائیں گے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16014