السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: الأبوين إذا افترقا وهما في قرية واحدة، فالأم أحق بولدها ما لم تتزوج، وكانوا صغارا، فإذا بلغ أحدهم سبع أو ثمان سنين وهو يعقل خير بين أبيه وأمه، وكان عند أيهما اختار باب: جب والدین الگ ہو جائیں اور وہ ایک ہی بستی میں ہوں، تو ماں اپنے بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ آگے نکاح نہ کرے اور بچے چھوٹے ہوں، پھر جب ان میں سے کوئی بچہ سات یا آٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ سمجھدار ہو تو اسے ماں باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا، اور وہ جسے چنے گا اسی کے پاس رہے گا۔
حدیث نمبر: 15762
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ وَلَيْسَ ذَلِكَ فِي مَسْمُوعِنَا، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ ⦗٧⦘ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابراہیم نے فرمایا کہ یونس نے عمارہ سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی ایک بچے کو اختیار دیا تھا کہ وہ ماں یا باپ میں سے جس کو مرضی چن لے۔