السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: الأبوين إذا افترقا وهما في قرية واحدة، فالأم أحق بولدها ما لم تتزوج، وكانوا صغارا، فإذا بلغ أحدهم سبع أو ثمان سنين وهو يعقل خير بين أبيه وأمه، وكان عند أيهما اختار باب: جب والدین الگ ہو جائیں اور وہ ایک ہی بستی میں ہوں، تو ماں اپنے بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ آگے نکاح نہ کرے اور بچے چھوٹے ہوں، پھر جب ان میں سے کوئی بچہ سات یا آٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ سمجھدار ہو تو اسے ماں باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا، اور وہ جسے چنے گا اسی کے پاس رہے گا۔
حدیث نمبر: 15761
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجَرْمِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: خَيَّرَنِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَ أُمِّي، وَعَمِّي، ثُمَّ قَالَ لِأَخٍ لِي أَصْغَرَ مِنِّي: وَهَذَا أَيْضًا لَوْ قَدْ بَلَغَ مَبْلَغَ هَذَا لَخَيَّرْتُهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ. وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَكُنْتُ ابْنَ سَبْعٍ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ،.حافظ ثناء اللہ
عمارہ جرمی فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ اور چچا کے درمیان حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اختیار دیا تھا اور پھر میرے چھوٹے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر اس کی بھی عمر ایسی ہوتی تو میں اسے بھی اختیار دیتا۔