حدیث نمبر: 15763
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي، وَأَرَادَ أَنْ يَنْزِعَهُ مِنِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي ".
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت کہنے لگی: یا رسول اللہ ﷺ! میرا یہ بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، میرا سینہ اس کے لیے پینا تھا اور میری گود اس کے لیے پناہ گاہ ہے۔ اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ اسے مجھ سے لینا چاہتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تو دوسرا نکاح نہ کر لے، تب تک تو ہی اس کی زیادہ حق دار ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النفقات / حدیث: 15763
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»