السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: الأبوين إذا افترقا وهما في قرية واحدة، فالأم أحق بولدها ما لم تتزوج، وكانوا صغارا، فإذا بلغ أحدهم سبع أو ثمان سنين وهو يعقل خير بين أبيه وأمه، وكان عند أيهما اختار باب: جب والدین الگ ہو جائیں اور وہ ایک ہی بستی میں ہوں، تو ماں اپنے بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ آگے نکاح نہ کرے اور بچے چھوٹے ہوں، پھر جب ان میں سے کوئی بچہ سات یا آٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ سمجھدار ہو تو اسے ماں باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا، اور وہ جسے چنے گا اسی کے پاس رہے گا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتِ: ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ. وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَافِعٍ: " اقْعُدْ نَاحِيَةً " وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: " اقْعُدِي نَاحِيَةً " قَالَ: وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: " ادْعُوَاهَا " فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أُمِّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اهْدِهَا ". فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا، فَأَخَذَهَا رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ، جَدُّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ.رافع بن سنان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ مسلمان ہو گئے تو ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: یہ میری بیٹی ہے جس کی مدتِ رضاعت ابھی پوری ہوئی ہے اور رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میری بیٹی ہے تو آپ ﷺ نے ایک طرف رافع رضی اللہ عنہ کو بٹھایا اور دوسری طرف ان کی بیوی کو اور بچی کو درمیان میں بٹھا دیا اور فرمایا: ”اب اسے اپنی طرف بلاؤ۔“ تو بچی ماں کی طرف جانے لگی تو نبی ﷺ نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اهْدِهَا» ”اے اللہ! اسے ہدایت دے۔“ تو وہ باپ کی طرف چلی گئی اور رافع رضی اللہ عنہ اسے لے گئے۔
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ عبدالحمید بن جعفر کے دادا ہیں۔