السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: 15713
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ فَأَخْبَرَتْنِي: أَنَّ زَوْجَهَا الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا فَأَبَى أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَفَقَةَ لَكِ فَانْتَقِلِي وَاذْهَبِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُونِي عِنْدَهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، اس نے مجھے خبر دی کہ اس کے مخزومی خاوند نے اسے طلاق دے دی اور اس پر خرچ کرنے سے انکار کردیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف آئی، اس نے آپ ﷺ کو خبر دی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے، تو منتقل ہوجا اور ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کی طرف چلی جا اور اسی کے پاس رہ، وہ نابینا آدمی ہے تو اس کے پاس اپنے کپڑے بھی اتار سکے گی۔“ اس کو مسلم رحمہ اللہ نے قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔