السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ نَفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةً دُونَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ قَالَتْ: وَاللهِ لَأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لِي ⦗٧٧٦⦘ نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِي يُصْلِحُنِي وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِي نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ شَيْئًا، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنَى " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ جَمِيعًا.سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کو ان کے شوہر نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں طلاق دی اور وہ ان پر خرچہ کیا کرتا تھا، جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ سے ضرور بات کروں گی، پس اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو میں وہ لوں گی جو میرے لیے درست ہے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا تو میں کچھ بھی نہیں لوں گی۔ وہ کہتی ہیں: میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے اور تیرے لیے رہائش بھی نہیں ہے۔“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح اس کو یحییٰ بن کثیر رحمہ اللہ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے رہائش اور خرچہ کے بارے میں بیان کیا ہے۔