حدیث نمبر: 15712
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 6] فَجَعَلَ لَهُنَّ نَفَقَةً بِصِفَةٍ.
حافظ ثناء اللہ

اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ ”اور اگر وہ حمل والی ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا حمل جن دیں۔“ [سورة الطلاق: 6]
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک خاص صفت (یعنی حمل) کی بنا پر نفقہ مقرر فرمایا۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ "، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ فَقَالَ: " انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابو سلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاقِ بائنہ دے دی اور وہ غائب تھا۔ اس نے (عمرو بن حفص نے) اپنا وکیل فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا، وہ اس (وکیل) پر ناراض ہوئیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرے ذمے تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور انہوں نے یہ تمام قصہ آپ ﷺ سے ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے۔“ اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ عدت ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاریں، پھر فرمایا: ”وہ ایسی عورت ہے جس کو میرا صحابی ڈھانپتا ہے (یعنی وہاں لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے)، تو ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہیں تو اپنے کپڑے بھی (آسانی سے) تبدیل کر سکے گی اور جب تو حلال ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ وہ کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو میں نے آپ ﷺ سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما اور ابو جہم رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابو جہم اپنا ڈنڈا اپنے کندھے پر ہی رکھتا ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے، تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ وہ کہتی ہیں: میں اس کو ناپسند کرتی تھی۔ آپ ﷺ نے (دوبارہ) فرمایا: ”تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ میں نے ان سے نکاح کر لیا، اللہ تعالیٰ نے اس میں خیر فرما دی اور میں رشک کیا کرتی تھی۔ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النفقات / حدیث: 15712
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 1480»