کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: 15712
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 6] فَجَعَلَ لَهُنَّ نَفَقَةً بِصِفَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ ”اور اگر وہ حمل والی ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا حمل جن دیں۔“ [سورة الطلاق: 6]
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک خاص صفت (یعنی حمل) کی بنا پر نفقہ مقرر فرمایا۔
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک خاص صفت (یعنی حمل) کی بنا پر نفقہ مقرر فرمایا۔
حدیث نمبر: 15712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ "، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ فَقَالَ: " انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاقِ بائنہ دے دی اور وہ غائب تھا۔ اس نے (عمرو بن حفص نے) اپنا وکیل فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا، وہ اس (وکیل) پر ناراض ہوئیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرے ذمے تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور انہوں نے یہ تمام قصہ آپ ﷺ سے ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے۔“ اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ عدت ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاریں، پھر فرمایا: ”وہ ایسی عورت ہے جس کو میرا صحابی ڈھانپتا ہے (یعنی وہاں لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے)، تو ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہیں تو اپنے کپڑے بھی (آسانی سے) تبدیل کر سکے گی اور جب تو حلال ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ وہ کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو میں نے آپ ﷺ سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما اور ابو جہم رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابو جہم اپنا ڈنڈا اپنے کندھے پر ہی رکھتا ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے، تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ وہ کہتی ہیں: میں اس کو ناپسند کرتی تھی۔ آپ ﷺ نے (دوبارہ) فرمایا: ”تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ میں نے ان سے نکاح کر لیا، اللہ تعالیٰ نے اس میں خیر فرما دی اور میں رشک کیا کرتی تھی۔ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15713
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ فَأَخْبَرَتْنِي: أَنَّ زَوْجَهَا الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا فَأَبَى أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَفَقَةَ لَكِ فَانْتَقِلِي وَاذْهَبِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُونِي عِنْدَهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، اس نے مجھے خبر دی کہ اس کے مخزومی خاوند نے اسے طلاق دے دی اور اس پر خرچ کرنے سے انکار کردیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف آئی، اس نے آپ ﷺ کو خبر دی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے، تو منتقل ہوجا اور ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کی طرف چلی جا اور اسی کے پاس رہ، وہ نابینا آدمی ہے تو اس کے پاس اپنے کپڑے بھی اتار سکے گی۔“ اس کو مسلم رحمہ اللہ نے قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ نَفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةً دُونَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ قَالَتْ: وَاللهِ لَأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لِي ⦗٧٧٦⦘ نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِي يُصْلِحُنِي وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِي نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ شَيْئًا، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنَى " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کو ان کے شوہر نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں طلاق دی اور وہ ان پر خرچہ کیا کرتا تھا، جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ سے ضرور بات کروں گی، پس اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو میں وہ لوں گی جو میرے لیے درست ہے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا تو میں کچھ بھی نہیں لوں گی۔ وہ کہتی ہیں: میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے اور تیرے لیے رہائش بھی نہیں ہے۔“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح اس کو یحییٰ بن کثیر رحمہ اللہ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے رہائش اور خرچہ کے بارے میں بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَهْلِهِ تَبْتَغِي النَّفَقَةَ فَقَالُوا: لَيْسَتْ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ: " لَيْسَتْ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَتُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينِ الْأَوَّلِينَ فَانْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى إِنْ وَضَعْتِ ثَوْبَكِ لَمْ يَرَ شَيْئًا وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكَ " قَالَتْ: فَلَمَّا أَحَلَّتْ ذَكَرَهَا رِجَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ أَنْتِ عَنْ أُسَامَةَ؟ " قَالَ: فَكَأَنَّ أَهْلَهَا كَرِهُوا ذَلِكَ قَالَتْ: لَا وَاللهِ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي قَالَ فَنَكَحَتْهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ: يَا فَاطِمَةُ اتَّقِي اللهَ فَقَدْ عَرَفْتُ مِنْ أِيِّ شَيْءٍ كَانَ ذَلِكَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ دُونَ قَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا محمد بن عمرو سے (روایت ہے کہ) وہ بنو مخزوم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں، اس نے انہیں طلاق بائنہ دے دی، اس نے اس کے اہل کی طرف قاصد بھیجا کہ یہ خرچہ مانگتی تھی، انہوں نے کہا: نہیں ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ کو خبر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمے خرچہ نہیں ہے اور تیرے ذمے عدت ہے، تو ام شریک کی طرف منتقل ہو جا۔“ پھر فرمایا: ”ام شریک ایسی عورت ہے جس پر اس کی پہلی مہاجر بہنیں داخل ہوتی ہیں، تو ابن ام مکتوم کی طرف منتقل ہو جا، وہ نابینا آدمی ہے، اگر تو اپنے کپڑے اتارے گی تو وہ کچھ نہیں دیکھ سکے گا اور تو ہم سے اپنے نفس کو گم نہیں پائے گی۔“ کہتی ہیں: جب وہ حلال ہوگئی تو اس نے آدمیوں کا ذکر کیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”تیرا اسامہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ کہا: گویا کہ اس کے اہل یہ ناپسند کرتے ہیں، کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نہیں نکاح کروں گی مگر اس سے جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس سے نکاح کروں۔“ محمد بن عمرو نے کہا: مجھے محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”اے فاطمہ! اللہ سے ڈر، کیا تو نے پہچانا ہے یہ کس چیز سے ہے؟“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے علی بن حجر اور اس کے علاوہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15716
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، وَهِيَ أُخْتُ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَمَرَ وَكِيلَهُ لَهَا بِنَفَقَةٍ فَرَغِبَتْ عَنْهَا فَقَالَ لِي وَكِيلُهُ: مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ نَفَقَةٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا: " صَدَقَ "، وَنَقَلَهَا إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَأَنْكَرَ النَّاسُ عَلَيْهَا مَا كَانَتْ تُحَدِّثُ مِنْ خُرُوجِهَا قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، انہوں نے خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے ان کو تین طلاقیں دے دیں۔ ان کے وکیل نے ان کو اس عورت کے لیے خرچے کا حکم دیا، اس نے اس سے بےرغبتی کی۔ مجھے اس کے وکیل نے کہا: تیرے لیے ہمارے ذمے خرچہ نہیں ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں۔ انہوں نے اس کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“ اور ان کو ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کی طرف منتقل کردیا۔ اس پر لوگوں نے انکار کیا جو وہ حلال ہونے سے پہلے خروج بیان کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 15717
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ قَالُوا: نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَاقُ: أَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا، فَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ قَالَا: وَاللهِ مَا لَكِ مِنْ نَفَقَةٍ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ قَوْلَهُمَا فَقَالَ: " لَا نَفَقَةَ لَكِ " وَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالِ ⦗٧٧٧⦘ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ: أَيْنَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " وَكَانَ أَعْمَى تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يَرَاهَا، فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا " أَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ بِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ: لَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مِنِ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ الْقُرْآنُ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ " حَتَّى بَلَغَ {لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا} [الطلاق: ١] قَالَتْ: هَذَا لِمَنْ كَانَتْ لَهُ مُرَاجَعَةٌ فَأِيُّ أَمْرٍ يَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ فَكَيْفَ تَقُولُونَ: لَا نَفَقَةَ لَهَا إِذَا لَمْ تَكُنْ حَامِلًا فَعَلَامَ تَحْبِسُونَهَا؟، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی طرف نکلا، اس نے اپنی بیوی (فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا) کی طرف وہ طلاق بھیجی جو اس کی طلاقوں میں سے باقی تھی۔ اس کو حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما نے نفقہ کا حکم دیا۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! تیرے لیے نفقہ نہیں ہے، اگر تو حاملہ ہوتی تو تیرے لیے خرچہ ہوتا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ کے سامنے ان دونوں کے قول کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے۔“ اس نے آپ ﷺ سے منتقل ہونے کے بارے میں اجازت مانگی، آپ ﷺ نے اس کو اجازت دے دی۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کہاں (منتقل ہو جاؤں)؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کی طرف، وہ نابینا آدمی ہے، تو اس کے پاس اپنے کپڑے اتارے گی تو وہ تجھے نہیں دیکھ سکے گا۔“ جب اس کی عدت گزر گئی تو اس کا نکاح نبی ﷺ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ مروان نے اس کی طرف قبیصہ بن زویب کو بھیجا کہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں سوال کرے، اس نے اس کو حدیث بیان کر دی۔ مروان نے کہا: میں نے یہ حدیث نہیں سنی مگر ایک عورت سے، ہم عنقریب اس عصمت کو تھامے رکھیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب مروان کا یہ قول ان کو پہنچا تو انہوں نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] حتیٰ کہ وہ اس مقام تک پہنچا ﴿لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، مگر یہ کہ وہ واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں (تو ان کو نکال دو)، تم نہیں جانتے شاید کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کے بعد کوئی نیا معاملہ پیدا کر دے۔“ وہ کہتی ہیں: یہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع (کا حق) ہو، بھلا کون سا معاملہ ہے جو تین (طلاقوں) کے بعد واقع ہو سکتا ہے؟ تم کیسے کہتے ہو کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو؟ پھر تم اسے کس بات پر (نکلنے سے) روک رہے ہو؟
حدیث نمبر: 15718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرزاق نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث ذکر کی مگر اس نے حدیث میں کہا کہ میں نبی ﷺ کے پاس گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے مگر یہ کہ تو حاملہ ہوتی۔“
حدیث نمبر: 15719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَدْ أَخْرَجَتِ ابْنَةَ أَخِيهَا طُهْرًا فَقُلْنَا لَهَا: مَا حَمَلَكِ عَلَى هَذَا؟ قَالَتْ: كَانَ زَوْجِي بَعَثَ إِلِيَّ مَعَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي ثَلَاثًا فِي غَزْوَةِ نَجْرَانَ وَبَعَثَ إِلِيَّ بِخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ قَالَتْ: فَقُلْتُ أَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا؟ قَالَتْ: فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " كَمْ طَلَّقَكِ؟ " فَقُلْتُ: ثَلَاثًا فَقَالَ: " صَدَقَ لَا نَفَقَةَ لَكِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ تَضَعِينَ عَنْكِ ثِيَابَكِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ وَأَبِي عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ فِي النَّفَقَةِ وَالسُّكْنَى جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن ابوجہم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی طرف گئے اور اس نے اپنے بھائی کی بیٹی کو طہر میں نکالا تھا۔ ہم نے اس سے کہا: تجھے اس پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: میرے خاوند نے نجران کے غزوہ میں میری طرف عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری تیسری طلاق بھیجی ہے اور میری طرف پانچ صاع جو اور پانچ صاع کھجور بھیجی ہے۔ میں نے کہا: میرے لیے صرف یہی خرچہ ہے؟ میں نے اپنے کپڑوں کو جمع کیا اور میں نبی ﷺ کے پاس آئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کتنی طلاقیں اس نے تجھے دی ہیں؟“ میں نے کہا: تین۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے، تیرے لیے خرچہ نہیں ہے، تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزار، تو اپنے کپڑے بھی اتارے گی۔“
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اور ابوعاصم رحمہ اللہ کی حدیث سے سفیان رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں نکالا ہے اور اس کو شعبہ رحمہ اللہ نے ابوبکر سے خرچہ اور رہائش کے بارے میں اکٹھا روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اور ابوعاصم رحمہ اللہ کی حدیث سے سفیان رحمہ اللہ سے اپنی صحیح میں نکالا ہے اور اس کو شعبہ رحمہ اللہ نے ابوبکر سے خرچہ اور رہائش کے بارے میں اکٹھا روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15720
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، نا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، نا هُشَيْمٌ، نا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ، وَأَشْعَثُ، وَمُجَالِدٌ، وَدَاوُدُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ قَالَتْ: فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ قَالَتْ: " فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ اعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " ⦗٧٧٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ. هَكَذَا رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَفِي رِوَايَةِ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لَهُ الْمُرَاجَعَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، میں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کے اس فیصلے کے بارے میں سوال کیا جو ان کے بارے میں ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں: انہیں ان کے خاوند نے طلاقِ بتہ دے دی، میں نے ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے پاس رہائش اور خرچے کے بارے میں مطالبہ کیا تو آپ ﷺ نے میرے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں فرمایا اور مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزاروں۔
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع ہو۔“
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع ہو۔“
حدیث نمبر: 15721
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا هُشَيْمٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ عَنِ الْجَمَاعَةِ كَمَا مَضَى وَأَتَى بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ عَنْ مُجَالِدٍ..
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 15722
وَفِي رِوَايَةِ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ: فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ قَدْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: " إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَتْ عَلَيْهِ رَجْعَةٌ " فَأَمَرَهَا فَاعْتَدَّتْ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ..
حافظ ثناء اللہ
شعبی سے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے قصے کے بارے میں منقول ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھگڑا کیا۔ آدمی نے کہا: اس کو اس نے تین طلاقیں دی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع ہو۔“ آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارے۔
حدیث نمبر: 15723
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضا۔
حدیث نمبر: 15724
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا " فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَرَوَاهُ غَيْرُ يَحْيَى بْنِ آدَمَ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دیں، رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا۔ اس کو مسلم نے حلوانی سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15725
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا شَاذَانُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: " يَا فَاطِمَةُ إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ " كَذَا أَتَى بِهِ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ وَالصَّحِيحُ هُوَ الْأَوَّلُ قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي نَفْيِ النَّفَقَةِ دُونَ السُّكْنَى، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ فَاطِمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ الشَّعْبِيِّ وَالْبَهِيِّ نَفْيُهُمَا جَمِيعًا وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ ⦗٧٧٩⦘ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ فَاطِمَةَ، وَالْأَشْبَهُ بِسِيَاقِ الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَى النَّفَقَةَ وَأَذِنَ لَهَا فِي الِانْتِقَالِ لِعِلَّةٍ لَعَلَّهَا اسْتَحَيَتْ مِنْ ذِكْرِهَا وَقَدْ ذَكَرَهَا غَيْرُهَا عَلَى مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهَا فِي كِتَابِ الْعِدَدِ وَلَمْ يَرِدْ نَفْيُ السُّكْنَى أَصْلًا، أَلَا تَرَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ لَهَا: اعْتَدِّي حَيْثُ شِئْتِ وَلَكِنَّهُ حَصَنَهَا حَيْثُ رَضِيَ إِذْ كَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَكِيلٌ يُحْصِنُهَا، وَأَمَّا قَوْلُهُ: " إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَتْ عَلَيْهِ رَجْعَةٌ " فَلَيْسَ بِمَعْرُوفٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرِدْ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُ مِثْلَهُ، وَأَمَّا إِنْكَارُ مَنْ أَنْكَرَ عَلَى فَاطِمَةَ فَإِنَّمَا هُوَ لِكِتْمَانِهَا السَّبَبَ فِي نَقْلِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر اس کے خاوند کے لیے رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ اسود بن عامر اسے شاذ لائے ہیں اور صحیح پہلی (روایت) ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جماعت کی روایت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے خرچہ کی نفی کی ہے رہائش کے علاوہ، اور اسی طرح عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کی روایت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، اور ان کے بعض کی روایت میں ابو سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، اور شعبی رحمہ اللہ اور بہی رحمہ اللہ کی روایت میں ان دونوں کی اکٹھے نفی ہے۔ اس کے بارے میں ابوبکر بن ابو جہم رحمہ اللہ کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے (مروی حدیث)، حدیث کے سیاق کے زیادہ مشابہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خرچہ کی نفی کی اور ان کو منتقل ہونے کی اجازت دی (کسی) علت کی وجہ سے، شاید وہ اس کے ذکر سے حیا کریں اور تحقیق اس کو ان کے غیر نے ذکر کیا ہے، ہم نے اس کا ذکر پہلے ’کتاب العدد‘ میں بیان کر دیا ہے۔ اصل میں رہائش کی نفی کو رد نہیں کیا۔ کیا آپ اس کو نہیں دیکھتے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے یہ نہیں فرمایا کہ ”تو جہاں چاہتی ہے عدت گزار“ بلکہ اس کو محفوظ کیا ہے کہ فرمایا: ”جہاں آپ نے چاہا“ جب اس کا خاوند غائب ہو اور اس کے لیے وکیل نہ ہو جو اسے مستحکم کرے، لیکن آپ ﷺ کا فرمان: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ یہ اس حدیث میں معروف نہیں ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جماعت کی روایت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے خرچہ کی نفی کی ہے رہائش کے علاوہ، اور اسی طرح عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کی روایت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہے، اور ان کے بعض کی روایت میں ابو سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، اور شعبی رحمہ اللہ اور بہی رحمہ اللہ کی روایت میں ان دونوں کی اکٹھے نفی ہے۔ اس کے بارے میں ابوبکر بن ابو جہم رحمہ اللہ کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے (مروی حدیث)، حدیث کے سیاق کے زیادہ مشابہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خرچہ کی نفی کی اور ان کو منتقل ہونے کی اجازت دی (کسی) علت کی وجہ سے، شاید وہ اس کے ذکر سے حیا کریں اور تحقیق اس کو ان کے غیر نے ذکر کیا ہے، ہم نے اس کا ذکر پہلے ’کتاب العدد‘ میں بیان کر دیا ہے۔ اصل میں رہائش کی نفی کو رد نہیں کیا۔ کیا آپ اس کو نہیں دیکھتے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے یہ نہیں فرمایا کہ ”تو جہاں چاہتی ہے عدت گزار“ بلکہ اس کو محفوظ کیا ہے کہ فرمایا: ”جہاں آپ نے چاہا“ جب اس کا خاوند غائب ہو اور اس کے لیے وکیل نہ ہو جو اسے مستحکم کرے، لیکن آپ ﷺ کا فرمان: ”رہائش اور خرچہ اس کے لیے ہے جس پر رجوع (کا حق باقی) ہو۔“ یہ اس حدیث میں معروف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15726
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِهَا فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَبْتُوتَةِ، فَقَالَ: تَعْتَدُّ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا فَقُلْتُ: فَأَيْنَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَ: هَاهْ وَوَصَفَ أَنَّهُ تَغَيَّظَ وَقَالَ: فَتَنَتْ فَاطِمَةُ النَّاسَ كَانَتْ بِلِسَانِهَا ذَرَّابَةً فَاسْتَطَالَتْ عَلَى أَحْمَائِهَا فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون بن مہران رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں آیا، میں نے اس کے اہل میں سے زیادہ جاننے والے سے سوال کیا، مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف بھیج دیا گیا، میں نے ان سے طلاقِ مبتوتہ والی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی۔ میں نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث کہاں گئی؟ انہوں نے کہا: اس پر افسوس! اور بیان کیا، وہ غصے میں تھے اور کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا، ان کی زبان میں تیزی تھی (یعنی وہ زبان دراز تھی) وہ اپنے دیوروں پر زبان درازی کرتی، اس کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ: ”وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزارے۔“ اسی طرح اس کو ابو معاویہ ضریر نے عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو عُتْبَةَ، نا بَقِيَّةُ، نا حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٧٨٠⦘ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذْ سَأَلَهُ رَجُلٌ هَلْ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا نَفَقَةٌ؟ فَقُلْتُ: " لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ " فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَصَبْتَ يَا ابْنَ أَخِي أَنَا مَعَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن صالح فرماتے ہیں کہ مجھے محمد بن عباد مکی نے حدیث بیان کی کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، جب ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ کیا تین طلاق والی کے لیے خرچہ ہے؟ میں نے کہا: اس کے لیے خرچہ نہیں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے بھتیجے! تو نے درست کہا اور میں تیرے ساتھ ہوں۔
حدیث نمبر: 15728
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: " نَفَقَةُ الْمُطَلَّقَةِ مَا لَمْ تُحَرَّمْ فَإِذَا حُرِّمَتْ فَمَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”طلاق شدہ کا خرچہ اس وقت تک ہے جب تک وہ حرام نہ ہو اور جب وہ حرام ہو جائے تو اچھے انداز میں عرف کے مطابق فائدہ دینا ہے۔“
حدیث نمبر: 15729
وَقَالَ أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: " لَيْسَتِ الْمَبْتُوتَةُ الْحُبْلَى مِنْهُ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنَّهُ يُنْفِقُ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ الْحَبَلِ فَإِذَا كَانَتْ غَيْرَ حُبْلَى فَلَا نَفَقَةَ لَهَا " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: مطلقہ مبتوتہ کے لیے کچھ نہیں ہے، اس کے لیے کچھ بھی نہیں سوائے حاملہ کے، وہ اس پر اس کے حمل کی وجہ سے خرچ کرے گا اور اگر وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔