السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: الرجل لا يجد نفقة امرأته باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کا نفقہ (برداشت کرنے کی استطاعت) نہ پائے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، نا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، نا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَقُولُ امْرَأَتُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَطَلِّقْنِي، وَيَقُولُ: خَادِمُكَ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَبِعْنِي وَيَقُولُ: وَلَدُكَ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ مِنْ رَأْيِكَ أَوْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا بَلْ هَذَا مِنْ كَيْسِي، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَعْمَشِ.ابو صالح، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”افضل صدقہ وہ ہے جو بندے کو غنی چھوڑے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور ان سے ابتدا کر جن کی تو دیکھ بھال کرتا ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تیری بیوی کہے گی: تو مجھے کھلا وگرنہ مجھے طلاق دے دے۔ تیرا خادم تجھے کہے گا: مجھے کھلا یا مجھے بیچ دے اور تیرا بیٹا کہے گا: مجھے تو نے کس کے سپرد کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ تو نے اپنی رائے سے کہا ہے یا اللہ کے رسول ﷺ کا قول ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں بلکہ یہ میرا قیاس ہے۔ اس کو بخاری رحمہ اللہ نے عمر بن حفص بن غیاث سے اور اس کے والد اعمش سے صحیح میں نکالا ہے۔