السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: وجوب النفقة للزوجة باب: بیوی کا نفقہ واجب ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدِ بْنِ أَحْمَدَ السُّلَمِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ " قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ " قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ " وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ عَلَى زَوْجَتِكَ قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ أَنْتَ أَبْصَرُ، زَادَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَعِيدٌ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثَ " يَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي، تَقُولُ زَوْجَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، يَقُولُ خَادِمُكَ: إِلَى مَنْ تَكِلُنِي أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی۔ ایک شخص آیا اور عرض کیا: میرے پاس دینار ہے۔ تحویل سند، ہمیں حدیث بیان کی ابوبکر احمد بن حسن قاضی نے، ہمیں حدیث بیان کی ابو عباس اصم نے، ان کو خبر دی ربیع بن سلیمان نے، ان کو خبر دی شافعی رحمہ اللہ نے، ان کو خبر دی سفیان نے محمد بن عجلان سے، وہ سعید بن ابی سعید سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی طرف آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس دینار ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اوپر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بچے پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اہل پر خرچ کر۔“ ابو عاصم کی حدیث میں ہے کہ: ”اپنی بیوی پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے خادم پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو زیادہ جانتا ہے (کہ کہاں خرچ کرے)۔“ اور ابو عاصم کی حدیث میں ہے: ”تو زیادہ دیکھنے والا ہے۔“ سفیان نے ابن عجلان سے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے۔ سعید نے کہا: پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب وہ یہ بیان کرے اس کا بچہ کہے گا: تو مجھ پر خرچ کر، اس کی طرف تو نے مجھے جس کے سپرد کیا ہے؛ تیری بیوی کہتی ہے: تو مجھ پر خرچ کر یا مجھے طلاق دے دے؛ تیرا خادم کہتا ہے: جس طرف تو نے مجھے سپرد کیا ہے، تو مجھ پر خرچ کر یا مجھے فروخت کر دے۔