حدیث نمبر: 15690
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ هِنْدًا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ قَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہندہ نے نبی ﷺ سے کہا کہ ابوسفیان کنجوس آدمی ہے، کیا میرے اوپر اس کے مال سے کچھ لینے میں کوئی حرج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو لے لے جو دستور کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو جائے۔“
اس کو امام بخاری نے محمد بن کثیر سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرضاع / حدیث: 15690
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»