السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: شهادة النساء في الرضاع باب: رضاعت کے معاملے میں عورتوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 15677
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، نا عَفَّانُ، نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، نا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عُثَيْمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعِ مِنَ الشُّهُودِ قَالَ: فَقَالَ " رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ " فَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ مُحَمَّدُ بْنُ عُثَيْمٍ يُرْمَى بِالْكَذِبِ وَابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ضَعِيفٌ وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي مَتْنِهِ فَقِيلَ هَكَذَا وَقِيلَ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ وَقِيلَ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا: رضاعت کے بارے میں کن کی گواہی جائز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی یا ایک عورت کی گواہی۔“ یہ ضعیف اسناد ہیں، اس کی طرح کی اسناد کو حجت نہیں بنایا جا سکتا۔ محمد بن عثیم کو جھوٹ کی تہمت لگائی گئی ہے اور ابن بیلمانی ضعیف ہے اور اس پر متن میں اختلاف کیا گیا ہے، اسی طرح ہے اور کہا گیا ہے کہ ایک آدمی اور عورت اور کہا گیا ہے: ایک آدمی اور دو عورتیں، اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔