السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: شهادة النساء في الرضاع باب: رضاعت کے معاملے میں عورتوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 15676
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَالْحَجَّاجُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ⦗٧٦٣⦘ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ شَهِدَتْ عَلَى رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا فَقَالَ: " لَا حَتَّى يَشْهَدَ رَجُلَانِ أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ " أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ، أَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: لَا تَجُوزُ مِنَ النِّسَاءِ أَقَلُّ مِنْ أَرْبَعٍ.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن خالد مخزومی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے ایک شخص اور اس کی بیوی کے خلاف گواہی دی کہ اس نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دو آدمی یا ایک آدمی اور دو عورتیں گواہی دیں۔ ہم کو ابو سعید بن ابی عمرو نے خبر دی کہ ہمیں ربیع نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی، ہمیں مسلم نے ابن جریج سے خبر دی، وہ عطاء سے بیان کرتے ہیں کہ عورتوں سے کم کی گواہی جائز نہیں ہے۔