حدیث نمبر: 15674
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَكَحَ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي أَهَابٍ فَقَالَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ: قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَعْرَضَ فَتَنَحَّيْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ: " كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِعْرَاضُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ لَمْ يَرَهَا شَهَادَةً تُلْزِمُهُ وَقَوْلُهُ: " كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا " يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ كَرِهَ لَهُ أَنْ يُقِيمَ مَعَهَا وَقَدْ قِيلَ لَهُ إِنَّهَا أُخْتُهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَهَذَا مَعْنَى مَا قُلْنَا مِنْ أَنْ يَتْرُكَهَا وَرَعًا لَا حُكْمًا.
حافظ ثناء اللہ

ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے خبر دی کہ عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے ام یحییٰ بنت ابو اہاب سے نکاح کیا۔ ایک سیاہ لونڈی آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے اعراض فرمایا۔ میں دوسری طرف سے آیا اور میں نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ کیسے ممکن ہے جبکہ اس کا گمان ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کا اعراض فرمانا اس بات کے مناسب ہے کہ آپ ﷺ اس کی گواہی کو ایسا نہیں سمجھتے تھے جو اس (نکاح کے فسخ) کو لازم کرے اور آپ ﷺ کا یہ قول: ”کیسے وہ گمان کرتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے“، یہ اس بات کے مشابہ ہے کہ آپ ﷺ اس کے ساتھ اس کے قیام کو ناپسند کر رہے تھے اور اس کو کہا گیا کہ وہ تیری رضاعی بہن ہے؛ اور اس کا معنی جو ہم نے کہا کہ وہ اس کو چھوڑ دے «وَرَعًا» ”بطورِ تقویٰ“ ہے، یعنی تقویٰ یہ ہے، حکماً نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرضاع / حدیث: 15674
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»