السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: ما جاء في تحديد ذلك بالحولين باب: رضاعت کی مدت دو سال مقرر ہونے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15667
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّهُ يُحَرِّمُ وَإِنْ كَانَ مَصَّةً وَإِنْ كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جو دو سالوں کے درمیان ہے وہ حرمت کو ثابت کرتا ہے، اگرچہ ایک گھونٹ ہو اور اگر دو سالوں کے بعد ہو تو وہ کوئی چیز نہیں ہے۔