کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رضاعت کی مدت دو سال مقرر ہونے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ} [البقرة: 233].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ ”اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں، (یہ) اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔“ [سورة البقرة: 233]
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " لَا رَضَاعَ إِلَّا فِي الْحَوْلَيْنِ فِي الصِّغَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
ہمیں سفیان نے عبداللہ بن دینار سے حدیث بیان کی، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: نہیں رضاعت مگر بچپن کے (ابتدائی) دو سالوں میں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ: " مَا أُرَاهَا إِلَّا تُحَرِّمُ " فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبْصِرْ مَا تُفْتِي بِهِ الرَّجُلَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَمَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا رَضَاعَةَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ "، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: " لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا كَانَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " هَذَا وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا فَلَهُ شَوَاهِدُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کبیر کی رضاعت کے بارے میں کہا: میں اس کو نہیں سمجھتا مگر وہ حرام ہو چکی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھ لو تم اس آدمی کو کیا فتویٰ دے رہے ہو۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ کیا کہتے ہیں؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رضاعت وہی ہے جو دو سالوں میں ہو۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھ سے سوال نہ کرو جب تک یہ عالم تمہارے درمیان ہے۔
یہ اگرچہ مرسل ہے، لیکن اس کے لیے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے شواہد موجود ہیں۔
یہ اگرچہ مرسل ہے، لیکن اس کے لیے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے شواہد موجود ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ مَا أَنْشَزَ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلًا فِي الْحَوْلَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”رضاعت ان کی ہے جو دو سالوں کے درمیان ہو اور جو گوشت کو بڑھائے اور ہڈیوں کو مضبوط کرے۔“ اسی کے ہم معنی اس کو یحییٰ بن سعید نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دو سالوں کے بارے میں مرسل روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " لَا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”مکمل دو سالوں کے بعد رضاعت نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّهُ يُحَرِّمُ وَإِنْ كَانَ مَصَّةً وَإِنْ كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جو دو سالوں کے درمیان ہے وہ حرمت کو ثابت کرتا ہے، اگرچہ ایک گھونٹ ہو اور اگر دو سالوں کے بعد ہو تو وہ کوئی چیز نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أبو الْفَضْلُ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رضاعت صرف دو سالوں میں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلَ، يَقُولُ: أنا أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، نا ⦗٧٦١⦘ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا يُعْرَفُ بِالْهَيْثَمِ بْنِ جَمِيلٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مُسْنَدٌ، أَوْ غَيْرُ الْهَيْثَمِ بِوَقْفٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرُوِّينَا هَذَا التَّحْدِيدُ بِالْحَوْلَيْنِ مِنَ التَّابِعِينَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَالشَّعْبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رضاعت نہیں حرام کرتی مگر جو دو سالوں کے درمیان ہو۔“
ابو احمد کہتے ہیں: ہیثم بن جمیل سے یہ معروف ہے، وہ ابن عیینہ سے سنداً روایت کرتے ہیں اور ہیثم کے علاوہ ابن عباس رضی اللہ عنہما پر یہ موقوف ہے۔
ابو احمد کہتے ہیں: ہیثم بن جمیل سے یہ معروف ہے، وہ ابن عیینہ سے سنداً روایت کرتے ہیں اور ہیثم کے علاوہ ابن عباس رضی اللہ عنہما پر یہ موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ لَتِسْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَحَدٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا، وَإِذَا وَضَعَتْ لَسَبْعَةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا، وَإِذَا وَضَعَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ كَفَاهَا مِنَ الرَّضَاعِ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
ہمیں داؤد بن ابی ہند نے عکرمہ سے حدیث بیان کی، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب عورت نو ماہ کے بچے کو جنم دے تو اسے اکیس ماہ دودھ پلائے اور اگر سات ماہ کے بچے کو جنم دے تو اسے تئیس (23) ماہ دودھ پلائے اور جب وہ چھ (6) ماہ کے بچے کو جنم دے تو اسے چوبیس (24) ماہ دودھ پلائے، جس طرح اللہ نے فرمایا ہے۔