السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: رضاع الكبير باب: بڑی عمر کے شخص کو دودھ پلانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ قَالَ: " أَرْضِعِيهِ " قَالَتْ: وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟ فَضَحِكَ وَقَالَ: " أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟ " قَالَتْ: فَأَتَتْهُ بَعْدُ وَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ شَيْئًا أَكْرَهُهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہل بن عمرو رسول اللہ ﷺ کی طرف آئیں، انہوں نے کہا: میں ابو حذیفہ کے چہرے میں دیکھتی ہوں سالم کے مجھ پر داخل ہونے کی وجہ سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کو دودھ پلا دے۔“ انہوں نے کہا: وہ بڑا آدمی ہے۔ آپ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ”کیا میں نہیں جانتا، وہ بڑا آدمی ہے۔“ فرماتی ہیں: وہ بعد میں بھی آئی اور وہ فرماتی ہیں: میں نے ابو حذیفہ کے چہرے میں اس کے بعد نہیں دیکھا کہ وہ اس کو ناپسند کرتے ہوں۔ اس کو مسلم نے عمرو ناقد اور ابن ابی عمر سے، ابن عیینہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
فقہاء کا خیال ہے بیشک یہاں رضاعت سے مقصود ہے۔ سہلہ بنت سہیل نے اپنا دودھ ایک برتن میں نکال کر اس کو سالم کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس کو پی لے اور اس کو بار بار بھیجا: یعنی پانچ بار اور اس کے ساتھ وہ اس پر حرام ہوئی۔