حدیث نمبر: 15648
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا ابْنُ مِلْحَانَ وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ ⦗٧٥٦⦘ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: ٥] فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيِّ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ وَيَرَانِي فَضْلًا وَقَدْ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا عَلِمْتَ فَكَيْفَ تَرَى فِيهِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضِعِيهِ " فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَأْمُرُ بَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ عَائِشَةُ أَنْ يَرَاهَا وَيَدْخُلُ عَلَيْهَا خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَدْخُلُ عَلَيْهَا وَأَبَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ مِنَ النَّاسِ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ حَتَّى يُرْضِعْنَ فِي الْمَهْدِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَاللهِ مَا نَرَى لَعَلَّهَا رُخْصَةٌ لِسَالِمٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ النَّاسِ.
حافظ ثناء اللہ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدالشمس رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جو نبی ﷺ کے ساتھ بدر میں [شریک ہوئے]، انہوں نے سالم کو اپنا بیٹا بنایا اور انہوں نے اپنے بھائی کی بیٹی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے اس کی شادی کر دی اور وہ انصار کی ایک عورت کا غلام تھا، جس طرح رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا، اور جاہلیت میں یہ قاعدہ تھا کہ جس شخص کو کوئی اپنا منہ بولا بیٹا بناتا، لوگ اسے اسی کا بیٹا کہتے اور وہ اس کی وراثت کا وارث بھی بنتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ”تم ان کو ان کے باپ کے نام سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔“ پس تم ان کو ان کے باپوں کی طرف لوٹا دو، اور جو اپنے باپ کو نہ جانتا ہو وہ دوست ہے یا دینی بھائی ہے۔ سہلہ بنت سہیل بن عمرو قریشی عامری جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم سالم کو اپنا بیٹا ہی خیال کرتے تھے اور وہ میرے اور ابو حذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے اور وہ مجھے [ایسی حالت میں] دیکھ لیتا ہے [جو ایک نامحرم کے لیے درست نہیں] اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جو حکم نازل فرمایا ہے وہ آپ جانتے ہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَرْضِعِيهِ» ”تو اس کو دودھ پلا دے۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پانچ بار دودھ پلایا تو وہ ان کے رضاعی بیٹے کی جگہ ہو گیا۔ اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی بیٹیوں کو حکم دیتی تھیں کہ وہ اس شخص کو پانچ بار دودھ پلائیں جس کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتیں کہ وہ ان کے پاس آئے اور انہیں دیکھے، پھر وہ ان کے پاس آ سکتا تھا، لیکن ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی ﷺ کی دیگر تمام ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا کہ اس قسم کی رضاعت کی بنا پر کوئی ان کے پاس آئے، یہاں تک کہ وہ گود میں (بچپن میں) دودھ نہ پی چکا ہو، اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم! ہم یہی سمجھتی ہیں کہ یہ رخصت رسول اللہ ﷺ نے صرف سالم کے لیے ہی خاص طور پر عطا فرمائی تھی، کسی اور کے لیے نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرضاع / حدیث: 15648
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»