السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: من قال: يحرم قليل الرضاع وكثيره باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک تھوڑا دودھ پینا ہو یا زیادہ، ہر صورت میں حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا وُهَيْبٌ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمَصَّةِ وَالْمَصَّتَيْنِ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةَ وَلَا الْمَصَّتَيْنِ وَلَا تُحَرِّمُ إِلَّا عَشْرًا فَصَاعِدًا " قَالَ: فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّضْعَةِ وَالرَّضْعَتَيْنِ فَقَالَ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ فِيهَا كَمَا قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَا يَقُولَانِ؟ قَالَ: كَانَا يَقُولَانِ " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا تُحَرِّمُ دُونَ عَشْرِ رَضَعَاتٍ فَصَاعِدًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ ⦗٧٥٥⦘ أَصَحُّ فِي مَذْهَبِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَرِوَايَةُ عُرْوَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مَذْهَبِهِ أَصَحُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے ایک بار چوسنے اور دو بار چوسنے کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ایک بار چوسنا اور دو بار چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا مگر دس گھونٹ یا اس سے زیادہ۔
فرماتے ہیں: میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا، میں نے ان سے ایک گھونٹ یا دو گھونٹوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس کے بارے میں نہیں کہتا مگر اسی طرح جس طرح ابن زبیر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا: کیسے؟ وہ کہتے ہیں: فرمایا: وہ دونوں کہتے ہیں: ایک بار چوسنا اور دو چوسنے حرام نہیں کرتے اور نہ ہی دس گھونٹوں سے کم حرام کرتی ہیں اور اس کو عبدالعزیز بن محمد نے ابراہیم بن عقبہ سے روایت کیا ہے اور اس کو زہری نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذہب میں زیادہ صحیح ہے اور عروہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کے نظریے میں زیادہ صحیح ہے اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔