السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: من قال: لا يحرم من الرضاع إلا خمس رضعات باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک حرمت صرف پانچ مرتبہ دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 15627
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، نا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً أُخْرَى فَزَعَمَتِ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِي الْحُدْثَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ أَوْ إِمْلَاجَةً أَوْ إِمْلَاجَتَيْنِ فَقَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ " أَوْ قَالَ: " الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میرے گھر میں تھے، ان کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہا: میرے پاس ایک بیوی تھی، میں نے دوسری شادی کرلی، میری پہلی بیوی کا گمان ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک گھونٹ یا دو گھونٹ یا ایک چوسا یا دو چوسے (اپنا) دودھ پلایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک چوسا یا دو چوسے“ یا فرمایا: ”ایک گھونٹ یا دو گھونٹ حرمت کو ثابت نہیں کرتے۔“
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔